عورت کا طلاق مانگنا کب جائز ہے؟

0













نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقع سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطا لبہ نہ کرے ۔ تاکہ وہ جنت کی خوشبو پاسکے۔ جبکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سےپائی جاتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے۔ طلاق کامطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو ح رام ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ: سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر دینے والا مالد ار ہی رہے۔ اور ہر حال میں اوپر کا ہاتھ دینے والے کا نیچے کے لینے والے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اور خرچ کی ابتداء ان سے کرو۔ جو تمہاری نگہبانی میں ہے۔ عورت کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دے۔ ورنہ طلاق دے۔ غلام کو اس مطالبے کا حق ہے۔ کہ مجھے کھانا دو۔ اور مجھ سے کام لو۔

بیٹا کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ۔ یا کسی اور پر چھوڑ دو۔ لوگوں نے کہا اے ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کیا یہ آخری ٹکڑا بھی کہ جوڑو بھی کہتی ہے آخر تک۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ نے سنا ہے کہ انہوں نے کہا نہیں ! بلکہ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خود اپنی سمجھ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی ۔ پھر جیسے سنی اسے آگے ویسے پہنچادیا۔

حضرت بہزؒ بن حکیمؒ کے دادا سے روایت ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ ہم اپنی بیوی کے پاس (جماع کے لئے) کس طرح آئیں؟ آپؐ نے فرمایا ۔جس طرح (جیسے) چاہو اپنی کھیتی میں آؤ اور جب خود کھاؤ اسے بھی کھلاؤ اور جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ۔ اسے برا بھلا نہ کہو، نہ اسے مارو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت اپنے شوہر کے گھر سے جب خیرات کرے تو اس کے خاوند کو بھی اجر ہوتا ہے اور اس کو بھی۔

ایک کے اجر سے دوسرے کا اجر گھٹتا نہیں (برابر اجر ہوتا ہے) شوہر کو کمائی کا اجر اور عورت کو خیرات کرنے کا اجر۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ا نہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی بی بی پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پر رشک آیا اور میرا کیا حال ہوتا اگر میں ان کے زمانے کو پاتی ۔اس رشک کا کوئی سبب نہ تھا مگر رسول اللہ ﷺ ان کو بہت یاد کرتے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ بکری ذب ح کرتے اور عورتوں میں سے حضرت خدیجہؓ کی کسی سہیلی کو ڈھونڈتے اور پھر ان کو ہدیہ دیتے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے وہ آدمی بہت اچھا ہے جو اپنے گھر والوں کے (حق میں) اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے اچھا ہوں اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہوجائے تو اس کے عیب بیان نہ کرو۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.