روضہ اقدس ﷺ پر حاضری کا مجرب عمل۔

0

آپ دوست احباب کو روضہ اقدس ﷺ پر حاضری کی تمنا کی تکمیل کے لیے مجرب عمل بتانے جا رہا ہوں جو ہر شخص کی تمنا ہو تی ہے علامہ کمال الدین دمیری ؒ نے اپنی کتاب یں ایک مجرب عمل لکھا ہے کہ جو شخص ایک سال تک یہ عمل ارکان شریعت کی رعایت کر تے ہو ئے کر ے گا تو انشاء اللہ اگلے سال ہی اسے مدینہ منورہ میں حاضری نصیب ہو گی۔

لا الہ اللہ الفتاح العلیمُ الر قیبُ المنان یہ سو مر تبہ پڑھے پھر اللھم صلی علی محمد افضل صلوا تک یہ سو مر تبہ پڑھے پھر دن رات میں یہ کلمات اور درود شریف پڑھنے کا اہتمام کر لیں پانچ وقت کی نماز بھی پڑھ لیں اور یہ عمل کر نا ہے۔

لہٰذا اس بات کو ذہن میں لازمی رکھئے گا اور پھر اس کے کمال دیکھئے کہ اگلے سال جتنی آپ کے دل میں تڑپ ہو گی اتنی انشاء اللہ جلد ہی قبولیت کے دروازے کھل جا ئیں گے تو امیدکرتا ہوں کہ آج کا عمل آپ کو پسند آ یا ہوگا۔ یقینا مکان کی شہرت و شرافت ، خاصیات و خصوصیات اور عظمت و عقیدت کا دارومدار صاحب مکان پر موقوف ہوتی ہے،

مسجد اس لیے احب البِقاء اور قابل احترام ہے کہ وہ خانہ خدا اور مرکز ذکر الٰہی ہے، مئے خانہ اس لیے برا ہے کہ وہ برائیوں کا اڈہ ہے، کیا خانہ کعبہ کا تقابل کسی اور خانہ خدا سے کیا جاسکتا ہے؟ نہیں، کیونکہ وہ صرف خانہ نہیں بلکہ تجلی ربانی کا مرکز ہے،

وہ صرف ایک گھر نہیں بلکہ پہلی عبادت گاہ ہے، وہ صرف مرکز اسلام ہی نہیں بلکہ مرکز نزول وحی بھی ہے۔مدینہ منورہ کی حیثیت ہجرت گاہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بننے سے پہلے ایک زرعتی شہر سے زیادہ نہیں تھی اور ہجرت گاہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم بننے کے بعد اس کی عظمت وعزت میں چار چاند لگ گئے، اس شہر کو پہلے یثرب کہا جاتا تھا،

لیکن جب اسے قیام گاہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر چن لیا گیا تو اس کا نام ”مدینہ“ پڑگیااورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت سے ”منورہ“ بن گیا، اور پھر آنجناب کی توجہات کی وجہ سے مدینہ کی مختلف فضیلتیں امت کے سامنے آئیں، مدینہ کے ساتھ الرسول لگایا جائے تو الگ فضیلت،

الطیبہ بڑھایا جائے تو الگ فضیلت، دارالہجرة کہا جائے تو مستقل فضیلت، حرم رسول اللہ کہا جائے تو الگ فضیلت بلکہ شرف و سعادت کی ایک مستند ترین بات یہ ہے کہ اللہ نے مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھا، کہتے ہیں کہ کثرت اسماء، کثرت شرافت کو لازم کرتی ہے، صاحب وفاء الوفاء نے مدینہ کے ۹۶ نام شمار کیے ہیں۔

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کی آب و ہوا صحت بخش ہوگئی، وہاں کی سکونت دنیا و عقبیٰ کی بھلائی کا سبب بن گئی، وہاں کی تکلیف و مصیبت پر صبر کرنا، شفاعت نبی کا ذریعہ بن گیا، وہاں کے پھل، سبزی اور اشیاء خوردونوش حتی کہ صاع و مد میں برکت ہونے لگی۔

وہاں طاعون اور دجال کا داخلہ ممنوع ہوگیا، اہل مدینہ کے ساتھ مکرو فریب کرنے والے کو نمک کی طرح پگھلنے کی وعید سنائی گئی، وہاں جینے مرنے کے فضائل بیان کیے گئے ، اس شہر مدینہ کے میوہ جات میں ہی نہیں، بلکہ شہر پاک کی خاک پاک میں تاثیرِ شفا ودیعت کردی گئی۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.