اگر کوئی آپ کو کمتر سمجھتا ہے تو اس کی دو وجو ہات ہیں؟؟

0













ہم لوگ بھی کتنے عجیب ہیں کہ کسی کی زندگی میں تو انہیں منانے کی کوشش نہیں کر تے مگر جیسے ہی وہ م ر جا تے ہیں انکی ق ب ر کے سر ہانے کھڑے شرمسارہوتے رہتے ہیں م ردے کو معافی سے کیا لینا؟ زندہ انسان کو منانے سے انا روک لیتی ہے م ر ے ہوئے انسان کو منانے اس لیے آ تے ہیں کہ وہ نہ آ نکھوں میں جھانک سکتا ہے نا آ گے سے بول سکتا ہے۔

سارے شہر کو اپنی دوستیوں اور پھر ناراضگیوں کی کہا نیاں سنا کے معصوم و مظلوم بننے کی بجائے جس سے ناراضگی ہو یا جس سے شکوہ ہو۔ تھوڑی اَنا قربان کر کے خود پہل کر تے ہوئے اُسی سے بات کرکے معا ملات سلجھانے کی کوشش کی جا ئے تو دوریاں ختم ہونے کے زیادہ امکا نا ت ہو تے ہیں۔ لوگ تمہیں بد نام کرنے کی لاکھ کوشش کر یں لیکن یاد رکھنا عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

آپ سیر توں کو ترجیح دینا شروع کر دیں عورت صورت کو چھوڑ کر سیرت سنوارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔ تمیز اور ضمیر جس انسان میں ہو اس جیسا خوبصورت انسان کوئی نہیں۔ دوستی نبھا نا دنیا کا سب سے زیادہ نازک کام ہے اور دوست رگوں میں سما جا ئے تو اس ساتھ سے بڑھ کر مضبوط اور پا ئیدار اور رشتہ اور کوئی نہیں۔ من مانی کا مزاج رکھنے والے افراد اپنا دین اور اپنی دنیا دونوں ہی خطرہ میں ڈال لیتے ہیں ماننے والے بنیں یعنی فر ما نبر دار ،ا ور یہی مسلمان کی تعریف ہے۔

انسان کی تکلیفیں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں اسے اپنی عاقبت نہیں بگاڑنی چاہیے۔ کسی کی خدمت میں پیش کئے جانے والے تحفوں میں سب سے بہترین تحفہ احترام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے سفر میں اللہ کو اپنے ساتھ مددگار بنا یا ہے یا نہیں ؟ اگر ہاں ! تو ہر منزل آسان ہو جا ئے گی اور اگر نہیں تو ش ی ط ا ن ہمارے ساتھ موجود ہے۔

ہم دوسروں کے بارے میں اپنے گمانوں پر چلتے ہیں یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہو تے کہ ہم غلطی کر کے بدل سکتے ہیں تو دوسرا بھی غلطی سے سیکھ لیتا ہے تو بہ کے دروازے پر کسی ایک انسان کا نام تو نہیں لکھا ہو تا۔ مسلسل اہمیت دینے کے باوجود بھی اگر رشتے بے قدرے اور بد مزاج رہیں تو رہنے کی بہترین جگہ اپنی حدود ہے۔ قدرت اتنی پر فیکٹ ہے کہ آپ کے ہر عمل کا بدلہ ضرور لوٹاتی ہے سکون فراہم کیجئے یہ لوٹ کر آپ کے پاس آ جا ئے گا کسی کی آنکھ میں آنسو ؤں کا سبب ہیں تو بھی انتظار کیجئے۔

جب کسی مقام سے آزشادی رخصت ہو نے لگتی ہے تو وہ یکدم نہیں جا تی ، بلکہ سب خوبیوں کے چلے جانے کے بعد آخر میں کوچ کر تی ہے یعنی رعا یا کو حاکم بھی ویسے ملتے ہیں جس کی وہ مستحق ہو تی ہے۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.