طلاق کی قسم کھانا اور قسم ٹوٹنے پر کیا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

0













ایک سوا ل ہے کہ ایک شخص نے قسم کھا کر کہا کہ اگر میں نے سگریٹ نوشی کی تو میری بیوی کو طلاق ہوگی۔ تو اس طرح قسم کھانے کے بعد سگریٹ نوشی کرنےسے نکاح پر اثرات مرتب ہوں گےیا نہیں ؟ اس کاجواب کچھ یوں ہے مذکورہ قسم کھانے کی صورت میں حنس ہونے پر ایک طلاق باقی ہوگی۔

لہٰذا سگریٹ نوشی کے بعد رجو ع بالقول یا بالفیل کافی ہے۔ اسی طرح ایک اور سوال آیا ہے کہ کوئی شخص اگر یہ کہے کہ میں نے فلاں کام کیا تو میری بیوی مجھ پر ایسی طلاق ہوگی جو ناجائز ہوتو اس سے کونسی طلاق واقع ہوگی؟ اس کاجواب کچھ یوں ہے کہ حنس ہونے کی صورت میں اس شخص کی بیوی پر طلاق رجیع واقع ہوگی ۔ جس میں رجوع بالفیل اور بالقول کی گنجائش موجود ہے۔ ایک سوال اور ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو نکاح کےبعد قبل از دخول طلا ق دے دی ہو۔

بعض ازں اسے پھر سے نکاح میں لانے کا خواہش مند ہو۔ تو ایسی صورت میں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے ؟ ا س کا جواب کچھ یوں ہے۔ طلاق کے وقوع کےلیے نکاح ضروری ہے۔ اس لیے قبل ا ز دخول بھی طلا ق واقع ہونے کے لیے کوئی امر معنی نہیں ہے۔ تاہم اگر تین طلاق متضر ب دی ہوں۔ یا صرف ایک طلاق دی ہو۔ تو ایسی حالت میں ایک طلاق سے منکوحہ جد ا ہوکر دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کےلیے صرف تجدید نکاح ثانی کافی ہوگی۔ البتہ اگر بیک وقت تین طلاقیں دی ہوں۔ تو پھر منکوحہ متعلقہ مغلضہ کےحکم میں رہے گی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سمجھ عطافرمائے ۔ اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ایک سوال ہے کہ اگر شوہر طلاق دے کر مکر جائے تو عورت کیا کرے؟ میر ی بہن کو اس کے شوہر نے تین مرتبہ طلاق دے دی۔

اور وہ اپنے گھر آگئی اور اپنے والدین کو اس صورتحا ل سے آگاہ کیا۔ میرے والدین نے جب میرے بہنوئی سے با ت کی تو انہوں نے انکا ر کردیا ۔ اور کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے۔ جبکہ میری بہن نے کہا کہ مجھے طلاق دے دی ہے۔ اب آپ بتائیں اسکا جواب کیا ہے؟؟ اس کا جوا ب کچھ یوں ہے۔ اگر میاں بیوی میں اختلاف ہوجائے ۔اور بیوی کہے کہ اس نے طلاق دے دی ہے۔ اور شوہر کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے۔ اور گواہ نہ ہونے کی صورت میں عدالت شوہر کی بات کا اعتبار کرے گی۔

لیکن آج کل لوگو ں میں دین و دیانت کی بڑی کمی ہے۔ لوگ طلاق دینے کے بعد مکر جاتےہیں۔ اس لیے اگر شوہر دین دار قسم کا آدمی نہیں ہے۔ اور عورت کو یقین ہے کہ اس نے تین مرتبہ طلاق دی ہے اور عورت کا اس کے گھر آباد ہونا جائز نہیں ہے۔شوہر کی قانونی کاروائی سے بچنے کےلیے اس کا حل یہ ہے کہ عدالت سے رجوع کیا جائے ۔ تو عورت کی طرف سے خلعہ کا مطالبہ کیاجائے۔ اور عدالت دونوں کے درمیان تفریق کردے۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.