شاہ شمس تبریز ؒ اور سورج کا زمین پر آ نا۔ واقعہ کی حقیقت کیا ہے؟

0













شاہ شمس تبریز ؒ کی بغداد سے ملتان ہجرت کرنے کے پیچھے بہت درد بھرا واقعہ ہے۔ جس کا مختصر سا تذکرہ کر تے ہیں کہ بغداد کے علماء شاہ شمس تبر یز کے بہت خلاف تھے اور تمام اراکین سلطنت بھی علماء کے ہم نوا تھے انجام کار کہ بادشاہ کی مر ضی کے خلاف بھرے مجمع میں۔۔ حضرت شمس تبریز ؒ کی کھال کھینچ لی گئی اور اس حالت میں بغداد سے نکال دیا گیا ۔۔ کہ پورا جسم لہو لہان تھا۔۔۔

ولی عہد سلطنت شہزادہ محمد کو حضرت شمس تبر یز ؒ سے بہت عقیدت تھی۔۔ جب آپ شہر بد ر ہو ئے تو شہزادہ محمد بھی آپ کے ہمراہ تھا رخصت ہو تے وقت اس نے اپنے امرائے سلطنت کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا۔

جس ملک میں حضرت شمس تبریز ؒ جیسے صاحبِ کمال کے ساتھ یہ سلوک کیا جا ئے۔۔ وہ ایک لعنت کدہ ہے۔ اور میں اس لعنت کدے میں سانس لینا بھی گ ن ا ہ سمجھتا ہوں ۔۔ یہ کہہ کر شہزادہ محمد حضرت شمس تبریز ؒ کے ساتھ بغداد کی حدود سے نکل گیا۔ بغداد سے نکل کر حضرت شمس تبر یز ؒ نے ہندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت طے کر کے ملتان پہنچے۔۔ اور پھر اسی تاریخی شہر میں سکو نت پذیر ہو گئے۔

حضرت شمس تبر یز ؒ سے اہل ِ بغداد کی طرح ملتان کی طرح ملتان کے لوگوں نے بھی شدید مخالفت کی۔۔ ایک بار یوں ہوا کہ حضرت شمس تبر یز ؒ کو گ وشت بھوننے کے لے آ گ کی ضرورت پیش آ ئی۔۔

آپ نے شہزادہ محمد کو آ گ لانے کے لیے بھیجا۔۔ مگر پورے شہر میں کسی نے آ گ نہیں دی۔ ایک سنگدل شخص نے تو شہزادے کو اتنا مارا کہ اس کے دلکش چہرے پر زخموں کے نشانات ابھر آ ئے۔۔ یہ کیا ہے؟ حضرت شمس تبر یز ؒ نے شہزادے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔ تم تو آ گ لینے گئے تھے۔ تو حضرت شمس تبر یز ؒ کو جلال آ گیا۔۔۔ آپ نہایت غصے کی حالت میں اپنی خانقاہ سے نکلے۔۔ گ وشت کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا۔۔

پھر جب شمس تبر یز ؒ نے آسمان پر نظر کی اور سورج کو مخاطب کر تے ہوئے فر ما یا تو بھی شمس! میں بھی شمس !میرے اس گ وشت کے ٹکڑے کو بھون دے اتنا کہنا تھا کہ یکا یک گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا پھر یہ گرمی اتنی بڑھی کہ اہلِ ملتان چیخ اُٹھے۔ درود یوار جل رہے تھے اور پورا شہر آ گ کی بھٹی بن کر رہ گیا تھا کچھ با خبر لوگوں نے یہ صورتحال دیکھی تو حضرت شمس تبریزؒ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کر نے لگے کیا چند نا دانوں کے جرم کی س ز ا پورے شہر کو دے ڈالیں گے ۔

یہ نادان نہیں سفاک ہیں۔ حضرت شمس تبر یز ؒ نے غضب ناک لہجے میں فر ما یا آ گ جیسے بے قیمت چیز نہیں دے سکے۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.