میری بیوی کو ز ن ا سے بچہ پیدا ہوا

0













ایک شادی شدہ عورت نے کسی غیر مرد کےساتھ ز ن ا کیا ۔ اس ز ن ا سے وہ حاملہ ہوگئی ۔ اس کے بعد جب وہ حاملہ ہوئی تو اس نے شوہرکو قریب نہیں آنے دیا۔ یعنی کہ شوہر کے ساتھ قربت نہیں کی۔ اب وہ ز ن ا سے حاملہ ہوئی تھی ۔ اسی حمل سے اس کی بچی پید ا ہوگئی ۔ اور اس کا پتہ ہے اس کے شوہر کا نہیں ہے۔ یہ تو اس بندے کا ہے۔ اگر پوچھنا چاہتا ہوں۔ کہ جو بچی پیدا ہوئی ہے۔

اس بچی کو جو نسب ہے اس عورت کے شوہر کے ساتھ جائےگا۔ پھر وہ جس نے ز ن ا کیا ہے اس کے ساتھ نصب ہوگا۔ دوسرے نمبر کیا وارثت میں اس کو حصہ ملے گا۔ کسی بھی وراثت میں حصہ ملے گا۔ اور کسی کی وارثت میں حصہ نہیں ملےگا؟ یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔

یہ تو سب کو پتہ ہے کہ ز ن ا کرنا کبیرہ گنا ہے۔ یہ آپ کو سب کو پتہ ہےاس میں تو تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ ز ن ا کرنے والے کو بہت سخت گنا ہ ملتاہے۔ لیکن شریعت کہتی ہے۔ کہ اگر کوئی کنوارہ ز ن ا کرے۔ تو اس کو سو کوڑے مارو۔ اگر شادی شدہ ز ن ا کرے تو اس کو سنسار کردو۔ اس کو مارمار کر مار دو۔ یہ شریعت کا اصول ہے۔ یہ حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں یہ لاگو ہوئے تھے ۔

کیونکہ اب تو مسلمانوں کی سلطنت نہیں ہے۔ جب مسلمانوں کی سلطنت ہو ۔ حکمران ہوں۔ یہ حکومت کی طرف سے معاملات ہوتے ہیں۔

ہم اور آپ فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اس معاملے کے اندر جو یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے اندر شریعت کا یہ مسئلہ ہے اگر اس عورت نے ز ن ا کیا۔ ز ن ا سے بچی پیدا ہوگئی۔ اب وہ جو بچی ہے۔ اب اس عورت کے شوہر کی طرف اس کی نسبت نہیں جاسکتی ۔ اور شوہر کی طر ف اس کی نسبت نہیں جاسکتی ہے۔ اور جس بندے نے ز ن ا کیاہے۔ اس کی طرف بھی نسبت نہیں جاسکتی ہے۔ اب نہ یہ اس بندے کی وراثت میں سے حصہ ملے گا ۔جس نے ز ن ا کیا ہے۔

اور نہ عورت کے شوہر کی طرف سے ۔ جو دوسرے نمبر جو عورت ہے ۔ جس نے اس کو جنم دیا ہے۔ وہ بچی اپنی ماں کے ترکہ میں سے وراثت میں سے حصہ لے گی۔ دوسرے نمبر جو شو ہر ہے اس کا ۔ اس پر لازم نہیں ہے کہ وہ اس بچی کو نان ونفقہ اس بندے نے ادا کردیا ۔

لیکن اگر وہ کردے اس کوخوشی سے کھلا پلا دے ۔ بچہ ہے کچھ نہیں ہوتا اس کا تھوڑی گن اہ ہے ۔ ز ن ا تو انہوں نے کیا ہے۔ تو یہ اس کےاوپر احسان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اجر عطا فرمائےگا۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.