افطاری کے لئے اسپیشل ڈرنک جسم کے لئے ضروری نمکیات پورا کرے

0

روزے کے دوران جسم کو پانی اور نمکیات کی کمی سے بچائے رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے جسے سحر و افطار کے لوازمات میں معمولی تبدیلی لا کر پورا کیا جاسکتا ہے۔رمضان المبارک کا مہنیہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ جاری ہے ان با برکت لمحات سے مستفید ہونے کے لیے اچھی صحت کا برقرار رہنا بے حد ضروری ہے

تاکہ عبادات کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جا سکے، گرمی کے ماہ میں روزہ رکھنے سے جسم میں پانی کی کمی کا احتمال رہتا ہے اس لیے ہیٹ ویو اور گرمی کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے خصوصی اہتمام کرنا بہت ضروری ہے۔سحری میں کم سے کم دو گلاس پانی ضرور پیئیں تاہم کولڈ ڈرنکس سے اجتناب برتیں کیوں کہ یہ روزے کے دوران پیاس بڑھاتے ہیں۔

اسی طرح دہی اور ریشہ دار سبزیاں دن بھر پانی کی کمی کو پورا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ کھیرا پانی کا ذخیرہ لیے ہوتا ہے اگر سحری میں کھیرے کو بطور سلاد کھایا جائے تو یہ جسم کے خلیات میں پانی کو جمع رکھتا ہے۔گرمیوں کے دوران پسینے کے راستے جسم کے نمکیات خارج ہوجاتے ہیں یہ نمکیات خون کے اندر شامل ہوتے ہیں

جس سے جسم میں پانی کی ایک خاص مقدار بحال رہتی ہیں۔ روزہ داروں میں پانی کی کمی کا احتمال زیادہ رہتا ہے جس کے لیے ناریل کا پانی کافی مفید ہے۔ یہ قدرتی اجزاء سے بھرپور ہے جس میں نمک کی خاص مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کر دیتی ہے۔روزے کے دوران پانی اور نمکیات کی کمی دور کرنے کے لیے سحری میں پھل بالخصوص گرما، تربوز اور خربوزہ ضرور کھائیں۔

یہ پھل دن بھر جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں کافی مدد گار ثابت ہوتے ہیں اس کے علاوہ ان پھلوں میں پوٹاشیم اور وٹامنز بھی موجود ہوتے ہیں جو جسم میں نمکیات اور توانائی کی کمی کو دور کرتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ مصالحے دار اور مرغ مسلم کھانے سینے کی جلن اور پیاس لگنے کا باعث بنتے ہیں اس لئے سحری میں شوربے والے سالن کا استعمال کریں جس میں تیل اور مصالحہ کم ہو اور جو باآسانی ہضم ہوسکے۔

ماہر صحت روزے داروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سحری میں وقت سے قبل بیدار ہوں تاکہ وقت کم ہونے کی وجہ سے بے صبری اور جلدی جلدی میں نہ کھانا پڑے، جلد بازی میں چیزیں کھانے سے بدہضمی یا قے ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اس لئے جلد نیند سے بیدار ہونے سے پرسکون انداز میں سحری کی جاسکتی ہے۔

افطار کے وقت کھجور اور پھل کا زیادہ استعمال کیا جائے اور فوراً پانی نہ پیا جائے، گرمی کے باعث افطار میں آم اور کھجور کے ملک شیک یا دیگر مشروبات بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔سخت گرمی کے موسم میں جسم کو پانی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے ایک ساتھ ایک دو لیٹر پانی پینے سے گریز کریں، اور وقفے وقفے سے پانی پئیں جو پیاس بجھانے کے ساتھ پانی کی طلب کو پورا کرے گا۔

جسم میں توانائی برقرار رکھنے کے لئے کوشش کریں کہ دن میں براہ راست دھوپ میں نہ نکلیں اور مشقت والا کام نہ کریں۔ اگر روزے دار کے لئے ممکن ہو کہ دن میں ایک سے 2 گھنٹہ نیند ضرور کریں جو جسم کو چست رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افطار میں سافٹ ڈرنکس، جنک فوڈز، چائے، کافی وغیرہ کا استعمال نہ کریں ۔

جن لوگوں کا بلڈ پریشر روزے کے دوران کم ہو جاتا ہے انہیں چاہیے کہ وہ پیروں کو سیدھا کرکے لیٹ جائیں اور دس منٹ کے لیے پیروں کو اوپر کر لیں۔ اگر ایک ساتھ دس منٹ تک نہیں کر سکتے تو دو دو منٹ کے وقفے سے یہ مشق کریں، اس مشق سے دماغ کو خون کی فراہمی بحال ہوجائے گی اور بلڈپریشر قابو میں رہے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.