روزے کی حالت میں شرم گ اہ کے بال اور بغل کے بال صاف کرنے سے کیا روزہ مکروہ ہو جا تا ہے؟

0













آج کی باتیں رمضان المبارک کے حوالے سے ہیں کہ کیا روزے کی حالت میں زیرِ ناف بال اور زیر ِ بغل بال صاف کر سکتے ہیں یا نہیں یہ مردوں اور عورتوں کا مشترکہ معاملہ اللہ کے نبی اللہ کے حبیب کی طرف سے یہ بات واضح ہے کہ زیرِ ناف بال صاف کر نا ہے کہ دس چیزیں یہاں پر بیان فر ما ئی ہیں

کہ میری اور مجھ سے پچھلے انبیاء کی سنت ہے تو اس سنت پر عمل کر نا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کر نا بھی ہو گا اور یہ ہمارے لیے ایک ایسی چیز ہے جو ہم پچھلے انبیاء کی سنتوں پر بھی عمل کر سکتے ہیں ۔

کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اللہ کے نبی کے دین میں ہیں اورپچھلے انبیاء کے دین میں مشترکہ تھیں اور وہ ہم تک آ تے آتے ختم ہو گئیں کچھ چیزیں اپنی اصلی حالت میں باقی رہیں اور بعض بدل گئے اس کی صورت بدل گئی اس کی کیفیت بدل گئی اس کی نوعیت بدل گئی اس کی نیچر بدل گئی زیر ناف بال صاف کر نا یہ ہمارے نبی ﷺ اور ان سے پچھلے جتنے بھی انبیاء گزر چکے ہیں ان سب کی سنتوں میں سے ہے۔

تو کوشش کیا کر یں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے جس طرح حکم فر ما یا ہے جن پر حکم پر فر مایا ہے تو اس کے مطابق عمل کریں عمل کر یں۔تو زیر ِ ناف بال صاف کر نا یا نہیں اور کتنے دن میں کرنے چاہییں؟

تو زیرِ ناف بال صاف کرنا ہفتے میں ایک بار یعنی جمعہ کے دن ضروری ہے اگر ہفتے میں ایک بار نہیں کر سکتے تو پندرہ دن میں کر یں اگر پندرہ دن میں ایک بار نہیں کر سکتے تو مہینے میں ایک بار کر یں اور اگر مہینے میں بھی ایک بار نہیں کر سکتے تو چالیس دن میں ایک دفعہ لازی کریں اور اگر چالیس دن میں بھی ایک دفعہ نہیں کر یں گے تو پھر آپ گ ن ا ہ گار ہوں گے اور یہ گ ن ا ہ کبیرہ تو یہ سوال یہ ہے۔

کہ روزے کے اندر زیرِ ناف بال کاٹ سکتے ہیں تو زیرِ ناف کم سے کم مدت ہفتے میں ایک بار زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن میں ایک بار۔ اگر آپ نے صاف نہیں کیا تو یہ گ ن ا ہ کبیرہ ہو گا اب یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا روزے کی حالت میں زیرِ ناف بال صاف کر نا جائز ہے یا نہیں؟

تو یہ بات یاد رکھیں کہ روزے کی حالت میں ان چیزوں سے روزہ ٹوٹا کر تا ہے جس میں غذائیت ہو یا جو باتیں انسان کو جسمانی باتیں ہوں شہ وت پیدا کر یں ان سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے مکروع ہو تا ہے یہ بات کہیں بھی نہیں لکھی ہو ئی کہ اگر زیرِ ناف بال صاف کر یں گے تو آپ کا روزہ جو ہے وہ ختم ہو جا ئے گا










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.