حضرت علی ؓ نے فر ما یا کہ رمضان میں کی جا نے والی ایک چھوٹی سی غلطی جس کی وجہ سے اللہ رزق کے تمام دروازے بند کر دیتا ہے۔

0













اللہ حکیم نے ایک عظیم مقصد کے تحت ایمان والوں پر روزے فرض کئے ہیں اور وہ مقصد ہے اللہ تعالی کا تقوی حاصل کرنا، دلوں کو برائیوں سے پاک کرنا اور بلند اخلاق کی پابندی کرنا ۔ روزے فرض کرنے کا مقصد بندوں کو نقصان پہنچانا یا انہیں مشقت میں ڈالنا نہیں ہے ۔

لہذا انسان جس قدر شرعی احکام کی پاسداری کرتے ہوئے روزہ رکھے گا اسی قدر اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوگا اور اس میں کوتاہی کرنے سے اجر و ثواب میں کمی کر دی جائے گی ۔

افسوس کہ بعض مسلمان روزوں کے احکام و آداب کا اہتمام نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان سے کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں جو ان کے روزوں پر اثر انداز ہوتی ہیں یا ان کے اجر و ثواب میں کمی کا باعث بنتی ہیں ۔ لہذا اس مضمون میں عوام الناس کے اندر ماہ رمضان میں پائی جانے والی بعض عام غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ،

اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالی اسے عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے اور روزے دار اس طرح کی غلطیوں سے باخبر رہ کر ان کے ارتکاب سے اجتناب کرے ۔چوں کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں اس لئے ایک مسلمان پر لازم ہے۔

کہ اسے صحیح طریقے پر انجام دینے کے لیے روزوں کے ارکان، واجبات، سنن، مکروہات اور مفطرات سے واقف ہو ۔ اگر ماہ رمضان کے تعلق سے کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو علمائے کرام سے سوال کرے اور اسے حل کرنے کی پوری کوشش کرے ۔ صیام کے احکام سے ناواقفیت ہی کا نتیجہ ہے کہ بعض لوگ اگر بھول چوک اور غلطی سے کھا پی لیتے ہیں تو انہیں شک ہوجاتا ہے۔

اور بالآخر کشمکش کی کیفیت میں روزہ توڑ دیتے ہیں، حالانکہ بھول چوک اور غلطی کی وجہ سے کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : إذا نسي أحدكم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه ( صحیح مسلم : ١١٥٥ ) ”جب تم میں سے کوئ شخص بھول کر کچھ کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے اللہ تعالی نے کھلایا اور پلایا ہے ۔“










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.