روزے میں غسل کے فرائض کیسے سرانجام دیں

0













غسل کا مسنون طریقہ مختصراً یہ ہے کہ اولاً ہاتھ اور شرم گاہ دھوئے ، پھر پورا وضو کرے ، اسی درمیان منہ اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالے ، اس کے بعد پورے بدن پر پانی بہائے ۔ اور بہتر ہے کہ اولاً دائیں کندھے پر، اس کے بعد بائیں کندھے پر اور پھر سر پر پانی ڈالے اور بدن کو رگڑ کر دھوئے ۔

اگر غسل کے فرائض پورے کیے جائیں ، تو غسل کے بعد وضو ء کرنا ضروری نہیں ہے ، ہاں غسل سے پہلے وضو کرنا مسنون ہے۔

عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما عن خالتہ میمونة قالت: وضعت للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم غسلاً یغتسل بہ من الجنابة، فأکفأ الإناء علی یدہ الیمنی، فغسلہا مرتین أو ثلاثاً، ثم صب علی فرجہ فغسل فرجہ بشمالہ، ثم ضرب بیدہ الأرض فغسلہا ثم تمضمض واستنشق وغسل وجہہ ویدیہ ثم صب علی رأسہ وجسدہ، ثم تنحی ناحیة فغسل رجلیہ۔ (سنن أبی داوٴد، کتاب الطہارة / باب فی الغسل من الغسل ۱/۳۲رقم: ۲۴۵دار الفکر بیروت، فتح الباری ۱/۴۸۶رقم: ۲۵۷بیروت)

عن جمیع بن عمیر وفیہ فقالت عائشة رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یتوضأ وضوئہ للصلاة ثم یفیض علی رأسہ ثلاث مرار۔ (سنن أبی داوٴد، کتاب الطہارة / باب الغسل من الجنابة ۱/۳۲رقم: ۲۴۱دار الفکر بیروت)وہی أن یغسل یدیہ إلی الرسغ ثلاثاً ثم فرجہ ویزیل النجاسة إن کانت علی بدنہ ثم یتوضأ وضوئہ للصلاة إلا رجلیہ، ہٰکذا فی الملتقط۔ (الفتاویٰ الہندیة ۱/۱۴)

رمضان میں دن کے وقت اگر احتلام ہوجائے، تو فرض غسل کرنے کا وہی طریقہ ہے، جو عام حالات میں ہے، یعنی ناک میں اور منہ میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر کم از کم ایک بار پانی بہانا، البتہ روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ نہیں کرنا چاہیے،

اس لیے کہ روزہ کی حالت میں ناک میں پانی ڈالنے اور کلی کرنے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے۔ وبالغ في الاستنشاق الا أن تکون صائماً۔ (ترمذي:۱/۱۶۳) وتکرہ لہ المبالغةفي المضمضة والاستنشاق۔ (الفتاوی الہندیة :۱/۱۹۹)










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.