حضرت علی ؓ کا فرمان سن لیں۔ بیوی کے سامنے یہ کام کرنے والا اپنا گھر بر باد کر دیتا ہے۔“

0

شادی ایک ایسا خوبصورت اور مقدس بندھن ہے جس میں پیار محبت کی جو مٹھاس ہے اس کی لذت کسی اور رشتے میں محسوس نہیں کی جا سکتی یہ حقیقت ہے کہ مرد و زن کے درمیان پنپنے والا یہ رشتہ نازک اور نہ پائیدار بھی ہو تا ہے

کیونکہ جتنا انسان خود کو مضبوط سمجھتا ہے وہ درحقیقت غیر یقینی صورتحال میں گھرا ہوا ہو تا ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو الگ اوصاف سے نوازا ہے اور عورت کو الگ اوصاف سے نوازا ہے اللہ نے مرد کے ذمہ داریاں بھی لگائی ہیں اور عورتوں کی بھی ذمہ داریاں بیان کی ہیں اللہ فر ما تا ہے کہ میں نے انسان کو ضعیف پیدا کیا ہے۔

اور پھر انسانوں میں بھی مرد کی نسبت عورت کو کمزور پیدافر ما یا ہے عورت میں عقل کم ہو تی ہے اور یہ بھی کہا جا تا ہے کہ عورت نازک ہو تی ہے جب کہ مرد کو عورت کی نسبت مر تبے میں عورت پر فوقیت دی ہے اس لیے مرد کو چاہیے کہ گھر کے معاملات میں عورت کا ساتھ دے ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے اور اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔ مرد حضرات کو کون سی چیزیں یا کام خود کر نے چاہییں اور ان کے بارے میں بیویوں کو نہیں بتا نا چاہیے اگر ان کے بارے میں بیوی کو بتائے گا۔

تو کیا ہو گا اس بارے میں حضرت علی ؓ کا کیا قول ہے؟ اس بارے میں مکمل تفصیل جاننے کے لیے ہمارے ساتھ ر ہیے گا ہم آپ کو آج کے موضو ع کے بارے میں تفصیل بھی بتائیں گے لیکن ا س سے پہلے آپ سے درخواست ہے کہ آپ ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ کسی بھی قسم کا کل کو کوئی مسئلہ نہ ہو ان باتوں پر عمل کر تے

ہوئے۔ خاندانی نظام کا زیادہ سے زیادہ مضبوط اور کامیاب ہو نا انسانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے اس کی شروعات شوہر اور بیوی کے ازدواجی تعلق میل اور محبت سے ہو تی ہے ہمارے مذہب میں شوہر کی حد متعین فرمائی ہے اگر دونوں حدود کے اند ر اپنی زندگی گزاریں تو بہت ہی زیادہ اچھے سے زندگی گزار سکتے ہیں یہ دونوں اور بہت سی ایسی فیمیلیز ہیں جو انسانی قوانین پر عمل کر کے خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

آقا ﷺ کا ارشاد ہے مومنین میں کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو ۔ اور سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ حضر ت علی ؓ علم و حکمت اور دانائی کے کامل نمونہ تھے اور آپ ؓ کی خلافت کا ایک ایک لمحہ عد ل و انصاف کا مظہر تھا۔

آپ ؓ کی زندگی کو جس نے بھی مشعل راہ بنا یا اس نے توحید ایمان اور تقویٰ کی راہ اپنائی اور دنیا کے معاملات میں کا میاب ہو گیا ہر کوئی اس بات کو جانتا ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضر ت علی ؓ ہی تھے۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.