روزے میں بار بار نہانا کیسا ؟ روزہ مکروہ یا نہیں؟

0

روزے میں گرمی کی وجہ سے نہانا یا پیاس بجھانے کے لئے کلی کرنا جائز ہے، البتہ اگر پانی حلق میں چلا گیا اور روزہ یاد تھا، تو روزہ فاسد ہوگیا، اور اس صورت میں قضا لازم ہے۔کلی کرنے کے بعد منہ میں پانی کی جو تری باقی رہ جاتی ہے، اس کو نگل جانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، مگر اس میں یہ شرط ہے کہ کلی کرنے کے بعد ایک دو مرتبہ تھوک منہ سے نکال دیا جائے،

اس لیے کہ کلی کرنے کے بعد کچھ پانی باقی رہ جاتا ہے، لہذا ایک دو مرتبہ تھوک دینے کے بعد پانی باقی نہیں رہتا، بلکہ ہلکی سی تری رہ جاتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ روزہ کی حالت میں نہر میں یا پول نہانا جائزہے کیا؟ کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا ڈوبکی لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

حالتِ روزہ میں نہر یا پول میں نہانے کی ممانعت تو نہیں ہے، تاہم اس بات کی احتیاط لازم ہے کہ نہاتے ہوئے کان، ناک یا منہ میں پانی نہ جائے۔اگر ڈبکی لگانے سے پانی حلق سے نیچے اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

روزے دار کے لے نہانا مباح ہے اوراس کا روزے پر کوئي اثر نہیں ۔ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی مغنی میں کہتے ہیں :روزے دارکے لیے نہانے میں کوئي حرج نہیں اس کا استدلال مندرجہ ذيل حدیث سے لیا جاسکتا ہے :عا‏ئشہ اورام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتی ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کی وجہ سے جنبی ہوتے اوربعض اوقات فجر ہوجاتی توآپ روزہ رکھتے اورغسل کرلیتے تھے

اور ابوداود رحمہ اللہ تعالی اپنی سند کے ساتھ بعض صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ :میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں گرمی یا پیاس کی شدت سے اپنے سرمیں پانی ڈال رہے تھے ۔

صاحب عون المعبود کہتے ہیں :اس حدیث میں دلیل ہے کہ روزے دار کےلیے جائز ہے کہ گرمی کی شدت کو کم کرنے کےلیے اپنےمکمل بدن یا جسم کے بعض حصہ پر پانی بہا سکتا ہے ، جمہور علماء کرام کا مسلک یہی ہے اورانہوں نے غسل واجب اورغسل مسنون اورمباح میں کوئي فرق نہيں کیا ۔

امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :روزے دار کے غسل کے بارہ میں باب اورابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے روزے کی حالت میں اپنا کپڑا بھگوکر اپنے اوپر ڈالا ، اورامام شعبی حمام میں روزے کی حالت میں داخل ہوئے اور حسن رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ روزہ دار کے لیے کلی اور ٹھنڈک حاصل کرنے میں کوئي حرج نہیں ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :زین بن المنیر کا کہنا ہے کہ : اغتسال کا لفظ مطلق طور پر اس لیے ذکر کیا ہے اس میں غسل مسنونہ ، غسل واجب ، اورمباح ہرقسم کا غسل شامل ہوسکے ، گویا کہ اس روایت کی ضعف کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو علی رضي اللہ تعالی سے مروی ہے اورمصنف عبدالرزاق نے روایت کی ہے اوراس کی سند میں ضعف ہے جس میں روزے دار کو حمام میں داخل ہونے سے منع کیا گيا ہے ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.