روزے کی حالت میں بیوی سے بغیر قربت کیے بوس و کنار اور چومنا کہاں تک جا ئز ہے؟پاکستانی لازمی جان لیں

0

آج ایک سوال آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آدمی رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی کو بوسہ دے یا اس کے ساتھ رازوو نیاز کر ے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جا ئے گا یا نہیں چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جا نب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ بو س ُ

کنار کر نا اور قربت کے بغیر بوسہ کر نا جائز ہےاس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول پاکﷺ روزے کی حالت میں بوسُ کنار کر تے لیکن اگر انسان کو ش ہ وت ہونے کی وجہ سے ح ر ا م میں کود پڑ نے کا اندیشہ ہو تو اس کے لیے مقروع ہے اگر اس کو انزال ہو جا ئے تو روزے کو جاری رکھے اور اس کی قضاء دے لیکن اہل ِ علم کے ہاں اس پر کفارہ نہیں ہے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ کیونکہ اصل تو روزے کا نہ ٹوٹنا ہے۔

نیز اس سے بچنا مشکل ہو تا ہے اسی طرح ایک اور سوال آیا کہ میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر ایک صوبے میں اپنے خاندان کے پاس گیا ہم نے رمضان کے روزے وہیں گزارے اور میرے لیے اپنی بیوی کے ساتھ صرف فجر کی نماز کے بعد ملنا ممکن تھا لہٰذا میں نے چار مر تبہ اس کے ساتھ ملا پ کیا میں اور میری بیوی ہم دونوں ہی روزوں کو کفارے کی طاقت نہیں رکھتے اس پریشانی میں میں کیا کروں چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ پریشانی جس کا آپ شکار ہو چکے ہیں جب آپ نے سفر کی حالت میں اپنے علاقے سے با ہر اس کام کا ارتکاب کیا ہے۔

تو آپ پر صرف قضاء ہے کیونکہ مسافر اگر اپنی بیوی کے ساتھ قر بت کر لے چاہے وہ دونوں روزے سے ہوں اس کے لیے کفارہ لازم نہیں ہو تا کیونکہ مسافر کے لیے قربت اورکھانے پینے کے ساتھ افطار کرنے کی اجازت ہے۔ اس بنیاد پر آپ نے جو کیا ہے آپ پر صرف یہی لازم ہے کہ روزے کی قضاء دیں اسی طرح آپ کی بیوی پر بھی اس دن کی قضاء دینا ضروری ہے لیکن یہ کہ آپ نےا س کو مجبور کر لیا ہو اور آپ کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئی ہو تو ایسی حالت میں آپ کی بیوی پر قضا ء واجب نہیں ہے۔

اسی طرح ایک اور سوال ہے سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی بیوی کو نفلی روزے یعنی شوال کے چھ روزے رکھنے سے منع کر سکتا ہوں؟ اور کیا اس سلسلے میں مجھے گ ن ا ہ ہو گا ؟ چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جا نب۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عورت کا خاوند اگر حاضر ہو تو لذت اندوزی کی ضرورت کے پیشِ نظر اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنے کے متعلق منع کا حکم وارد ہو ا ہے اگر عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھ لے اور خاوند قربت کی ضرورت محسوس کر ے تو عورت کے لیے روزہ افطار کرنا جا ئز ہے

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.