رمضان میں پیارے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو یہ عمل سیکھایا چلتے پھرتے پورا رمضان یہ عمل کریں

0

رمضان میں دعا، استغفار ، ذکر الٰہی اور درود شریف کی خوب کثرت کریں. چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو ان مبارک کلمات کا عادی بنائیں. فضول باتوں اور بیہودہ گوئی سے مکمل پرہیز اور احتراز کریں. اپنی استطاعت کے مطابق مسلمانوں کو روزہ افطار کروانے کا اہتمام کریں کہ یہ بہت بڑی نیکی ہے .

اس کے علاوہ بھی اللہ کے راستے میں نیز فقراء و مساکین پر خوب خرچ کریں. کیونکہ رمضان المبارک میں صدقات و خیرات کا اجر بھی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے. تراویح اور نماز تہجد کو مکمل توجہ اور اہتمام سے ادا کرنے کی عادت بنا لیں۔

سستی اور غفلت کی بجائے چستی اور تندہی سے تمام عبادات ادا کریں. رمضان المبارک کا ایک منٹ کتنا قیمتی ہے؟ اندازہ لگائیں کہ ماہ مبارک کے صرف ایک منٹ میں ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں ایک منٹ میں آپ سورہ فاتحہ جتنی سورت بآسانی تلاوت کر سکتے ہیں اور قرآن کریم کے ہر حرف پر کم از کم دس نیکیاں تو یقینی ہیں. اس طرح ایک منٹ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں نیکیاں جمع کی جا سکتی ہیں.

آپ کوشش کر کے ایک چھوٹی آیت کریمہ ایک منٹ میں زبانی بھی یاد کر سکتے ہیں. آپ ایک منٹ میں کئی مرتبہ با سہولت یہ کلمہ پڑھ سکتے ہیں: لَا اِلٰہَ اِلاّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرْ ایک منٹ میں آپ با آسانی درجنوں مرتبہ یہ کلمہ پڑھ سکتے ہیں :سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِ ہْ ایک منٹ میں آپ با آسانی بیس سے پچیس مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھ سکتے ہیں.

صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ایک منٹ میں آپ سو مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی مانگ سکتے ہیں. اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الْعَظِیْمَ ایک اللہ والے نے رمضان المبارک کی برکات کا یوں بھی حساب لگایا ہے: رمضان المبارک کا ایک ایک روزہ سال بھر کے تین سو چوّن مسلسل روزوں سے زیادہ ثواب رکھتا ہے. بلا عذر اگر اس کا ایک روزہ بھی نہ رکھا گیا تو عمر بھر کے روزے بھی اس کی جگہ کافی نہیں ہونگے.

رمضان میں ہر فرض کا ثواب ستر گنا، ہر نفل ، اعتکاف و ذکر اور ہرنیک کام کا ثواب ستر گنا ہو کر فرض کے برابر ہو جاتا ہے. نماز کا ثواب گھر پر ایک کا ، مسجد میں پچیس کا ، جامع مسجد میں پچاس کا تھا۔

لیکن رمضان میں ستر گنا اور زائد ہو گا اس لئے رمضان میں گھر پر ستر ، مسجد میں سترہ سو پچاس ، جامع مسجد میں تین ہزار پانچ سو ہو جاتا ہے اور پانچوں نماز کا گھر پر 250 کا ، مسجد میں آٹھ ہزار سات سو پچاس کا اور جامع مسجد میں سترہ ہزار پانچ سو کا روزانہ ثواب ہو گا. جماعت کا ستائیس گنا ، پنج وقتہ ایک سو پینتیس اور رمضان کا ستر گنا نو ہزار چار سو پچاس ثواب ہو گا.

قرآن مجید کے ہر حرف پر دس نیکیاں تو رمضان میں سات سو ہونگی قرآن کے کل حروف تین لاکھ تیس ہزار چھ سو اکہتر ، اس طرح پورے قرآن مجید کا ثواب رمضان میں بائیس کروڑ پینسٹھ لاکھ انہتر ہزار سات سو بنتا ہے. سننے والے کو بھی اتنا ہی ثواب اور جو سمجھ کر پڑھے یا سنے اسے اتنا ہی مزید ثواب اور جو پڑھے بھی

، خود سنے بھی اور سمجھے بھی اسے اس ثواب کا تین گنا یعنی سڑسٹھ کروڑ چھیانوے لاکھ نو ہزار ایک سو ثواب ملئے گا . اس کے علاوہ قرآن کو مس کرنا یعنی چھونا اور دیکھنا یہ بھی دس دس گنا زیادہ عبادات ہیں. اسی طرح پورا قرآن مجید پڑھنے پر تیرہ ارب انسٹھ کروڑ اکیس لاکھ بیاسی ہزار ثواب ہو گا. قرآن مجید پڑھنے کا یہ عظیم الشان ثواب شبینہ کی رات میں حاصل ہو سکتا ہے،

بشرطیکہ کسی مکروہ یا خلاف شرع یا ریاء و نمود سے اس شبینہ کو ملوث نہ کیا جائے. بسم اللہ الرحمن الرحیم جو سب کو یاد ہے۔

اس کے انیس حرف ہیں اور رمضان میں تیرہ ہزار تین سو نیکیاں صرف بسم اللہ کے پڑھنے پر ملیں گی اور جو جو سورتیں حفظ ہوں ، وضو یا بے وضو چلتے پھرتے ہر حرف پر اتنی ہی نیکیاں مفت ملیں گی. سب سے اہم بات جس کا ماہ مبارک میں خیال رکھنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزی سے بچانے کی پوری پوری کوشش کی جائے

یہ وہ پہلی شرط اور بنیادی بات ہے جس کو پورا کئے بغیر انسان ماہ مبارک سے ہر گز کما حقہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ روزہ تو ہے ہی ہم سے نافرمانی اور گناہ چھڑانے کیلئے اور نیکی اور فرمانبرداری کے راستے پر چلانے کیلئےجسکا دوسرا نام تقویٰ ہے.

کھانا پینا اور حلال ازدواجی تعلقات عام دنوں میں مسلمانوں کیلئے حلال تو ہیں لیکن رمضان المبارک میں کچھ وقت کیلئے ان سے روک دیا جاتا ہے . اس کے بجائے جھوٹ غیبت سود رشوت غیر محرم کو دیکھنا گانا سنانا ، تصویر بنوانا، داڑھی مونڈنا ، پردہ نہ کرنا، گالی دینا دھوکہ دینا اور ان جیسے دوسرے گناہ تو وہ ہیں جو سرے سے ہیں ہی حرام اب اگر کوئی بندۂ خدا ان روزوں میں حلال سے تو رُک گیا لیکن حرام سے نہ رُکا تو اس کا کیا روزہ ہوا؟

کہ حلال سے بچا رہا اور حرام سے نہیں بچا جبکہ حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ روزہ کا مقصد ہی یہ ہے کہ تمہارے اندر پرہیز گاری یعنی گناہ سے بچنے کا جذبہ بیدار ہو جائے آج اس تناظر میں تمام مسلمان روزہ داروں کو اپنا محاسبہ کرنے کی شدید ضرورت ہے کہ آیا وہ ناجائز امور جن کو شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے ہم نے رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے بعد چھوڑ دیئے یا نہیں

اور اگر جواب نفی میں ہے تو فوراً ہی اسے چھوڑنے کی کوشش شروع کر دی جائے. یہ روزے کا سب سے اولین تقاضہ ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.