نبی ﷺ کا یہ فرمان سن لیں۔ رمضان میں بیوی سے قربت کرنے کی سزا

0

ایک صحابی سے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ قربت ہو گئی یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بعد انسان کو کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے روزے کی حالت میں انسان کو ان تمام چیزوں سے روکا گیا ہے ان میں میاں بیوی کا آپس میں جسمانی تعلق قائم کرنا جا ئز نہیں ہے روزے کے بعد ان تعلقات کو بہال کر دیا جا تا ہے لیکن ان اوقات کے درمیان میں اللہ نے اس چیز سے روکا ہے اگر ایسا ہو جا ئے تو اس کا کفارہ ادا کر نا پڑتا ہے آٹھ روزے رکھنا لازم ہو تا ہے اور اگر کسی انسان میں طاقت نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے کہا گیا ہے ۔

کہ وہ ستر مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے گا اسی طرح ایک صحابی سے جب ہوا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ ئے اور انہیں سارا معاملہ بتا یا کہ میں روزے سے تھا اور اپنی بیوی کو میں نے جا تے ہو ئے دیکھا اور اس کی پنڈلی پر میری نظر پڑی تو میں بے تاب ہو گیا اگر آج کے نوجوان کی بات کی جا ئے تو ایسا فحاشی قسم کا مواد یکھتا ہے کہ جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں پردہ نہیں رہتا اور اس کا بھی بہت سخت ع زا ب موجود ہے جب ان صحابی کے ساتھ ایسا ہوا تو آپ ﷺ کے پاس آ ئے اور انہیں سارا معاملہ بتا یا کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے اب وہ کیا کر یں۔

نبی اکرم ﷺ نے ان سے ارشاد فر ما یا کہ تم ساٹھ روزے رکھو صحابی نے حضور اکرم ﷺ کو جواب دیا کہ میں ساٹھ روزے نہیں رکھ سکتا اس کی استطاعت نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے فر ما یا کہ پھر تم ساٹھ لوگوں کو کھانا کھلا تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں ساٹھ لوگوں کو کھانا کھلا سکوں تو آپ ﷺ نے فر ما یا کہ جب تمہارے پاس پیسے آ ئیں تو اس وقت انہیں کھانا کھلا دینا پھرآپ ﷺ نے سوچا کہ انہیں تھوڑی س ز ا ملنی چا ہیے ۔

تو آپ ﷺ نے اس صحابی سے کہا کہ اپنے سے زیادہ کسی مسکین کو ہدیہ کر دو تو انہوں نے کہا کہ ہدیہ کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو آپ ﷺ نے دیگر صحابہ کرام کو کہا کہ کچھ پیسے جمع کر کے انہیں دے دئیے جا ئیں انہیں ہدیہ کر د ئیے جا ئیں پیسے جمع کیے گئے ۔ اور انہیں دے دئیے گئے اور فر ما یا کہ مدینہ جا کر سب سے زیادہ مسکین انسان جو ہیں انہیں جا کر یہ پیسے دے دو۔ ان صحابی نے جب حضور اکرم ﷺ کا یہ حکم سنا تو آپ ﷺ سے کہنے لگے کیا مدینہ میں مجھ سے مسکین بھی کوئی شخص ہو گا تو نبی اکرم ﷺ نے جب صحابہ کرام کی یہ بات سنی تو اسے اپنے گھر لے جاؤ اور اپنے بچوں پر خرچ کردو۔ یہ واقعہ ہمارے لیے کافی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.