کیا رمضان میں حاملہ خواتین روزہ رکھ سکتی ہیں؟

0





اگر حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی وجہ سے کسی قسم کے نقصان، بیماری کا خدشہ ہو یا روزہ کی وجہ سے حمل کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں حاملہ عورت پر روزہ فرض نہیں ہے۔ حمل کی وجہ سے وہ روزہ نہیں رکھے گی اور بعد میں صرف روزہ کی قضاء کرے گی اور حاملہ کو یہ رخصت دی گئی ہے کہ ایسی حالت میں وہ روزہ نہ رکھے۔ اس صورت میں حاملہ مریض کے حکم میں ہو گی۔ جیسے مریض پر روزہ فرض نہیں ہے اسی طرح حاملہ پر بھی روزہ فرض نہیں ہے اور بعد میں جتنے روزے قضاء ہونگے وہ رکھے گی گر روزہ رکھنے سے حمل کو یا حاملہ کو نقصان ہو تو وہ ماہِ رمضان کے بعد روزہ رکھ سکتی ہے۔

بلاوجہ ایسا کرنا درست نہیں۔ (۲) جی نہیں، روزہ کسی کی طرف سے رکھنا جائز نہیں، اسی طرح نماز بھی کسی کی طرف سے پڑھنا جائز نہیں، حدیث شریف میں ابن عباس کا ارشاد ہے لا یصلي أحد عن أحدٍ، لا یصوم أحدٌ عن أحدٍ۔ (۳) جی نہیں۔ (۴) ماہواری کے ایام میں عورت روزہ نہیں رکھے گی، شریعت میں منع ہے، حیض سے پاک ہونے کے بعد روزہ رکھے گی۔ (۵) دوسری قربانی سے کون سی قربانی مراد ہے؟ والد یا والدہ کے نام سے قربانی پیسے دینے والے کی اجازت سے ہورہی ہے یا بغیر اجازت کے؟ ان دونوں کوواضح کریں، اس کے بعد جواب تحریر کیا جائے گاڈاکٹر کہتے ہیں کہ تم ٹھیک ہو تم روزہ رکھ سکتی ہو تو اس کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے فرض ہے جیسے عام لوگوں کے لیے فرض ہے۔ رہی وہ عورت وہ حاملہ عورت جس کو نقصان ہو جیسے خود عورت کو نقصان ہے ڈاکٹر کہتے ہیں۔

کہ اگر تم اس حالت میں روزہ رکھو گے تو تمہاری جان کو خطرہ ہو تمہیں نقصان پہنچے جو ہے تجربے سے یقیناً یقینی طور پر ثابت ہو نا ضروری نہیں ہے تجربے سے معلوم ہو تا ہو گا کہ اگر کوئی ایسا کر تا ہے تو اس کو نقصان پہنچتا ہے ڈاکٹر بتاتے ہیں ایسا مت کرو۔ وہ بہت مہا رت رکھتا ہے وہ بتا رہا ہے کہ اگر تم روزہ رکھو گی تمہیں سخت نقصان ہو گا۔ اسی طرح جس طرح عورت کو نقصان ہے اسی طرح بچے کو بھی نقصان ہے بچے کو کوئی خطرہ ہو روزہ رکھنے سے تو ایسی عورت کے لیے روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے ۔

یعنی روزہ رکھنا اس کے لیے رمضان میں ضروری نہیں ہے روزہ رمضان میں اس کے لیے فرض نہیں ہے جب حمل ہو جا ئے جب وہ تندرست ہو جا ئے جب اس کو صحت آ جا ئے صحت یاب ہو جا ئے پھر اس کے لیے بعد میں خود روزہ وہ جو روزہ چھوٹ گیا تھا۔ وہ روزہ رکھے۔ چھ ہوں یا آٹھ ہوں جتنا بھی روزہ چھوٹے ہوں گے تمام کے تمام روزوں کی قضاء کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا۔ ایسا نہیں ہے کہ حاملہ عورت کے لیے رمضان کا روزہ معاف ہے۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.