رمضان المبارک میں میا ں بیوی کیسے قربت کرسکتے ہیں قربت کرنے کا صحیح طریقہ

0





رمضان کے مہینے میں بیوی سے قربت کرنا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ ؓ ارشاد فرماتی ہیں :اللہ کے رسول ﷺ رمضان میں رمضان کی رات میں بیوی سے قربت کیا کرتے تھے پھر صبح صادق کے بعد غسل کیا کرتے تھے اور روزہ رکھ لیا کرتے تھے ۔ اس میں غور کرنے کی بات ہے۔ اگر روزے کی حالت میں ہے تو اس میں قربت حرام ہے ۔

جیسے دن کا وقت ہے جتنا وقت صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک جب تک روزے کا وقت رہتا روزہ رکھتے ہیں اس وقت میں قربت حرام ہے اگر کوئی قربت کرلیتا ہے تو پھر روزہ بھی فاسد ہوجائیگا اور کفارہ بھی لازم ہوجائیگا ۔ روزے کے علاوہ کا جو ٹائم ہے لہذا جب تک روزے کا ٹائم شروع نہیں ہوا اور صبح صادق بھی نہیں ہے تب تک کیلئے آدمی اگر قربت کرتا ہے تو بلا کراہت جائز ہے اور ثابت بھی ہے ۔

لہذا بلاکراہت رات میں بیوی سے قربت جائز ہے اوراس میں کوئی حر ج نہیں یہ اور بات ہے کہ قربت کرلیتے ہیں تو غسل کب کریں گے ۔ بہتر یہ ہے کہ جتنی جلد ہوسکے غسل کرلیں اگر نہیں ہوسکتا تو فجر کی نماز سے پہلے غسل لازم ہے کیونکہ ہم نے نماز لازمی پڑھنی ہے ۔بنیادی مسائلِ زندگی کو جاننا بطور مسلمان ہمارا پہلا فریضہ ہے۔ کم از کم ہمیں پاکی اور ناپاکی کے مسائل سے لازماً آگاہ ہونا چاہیے۔

یہی وہ فرق ہے جس سے انسان اور جانور میں امتیاز ہوتا ہے۔بہرحال اگر میاں بیوی فرض روزے کی حالت میں رضا مندی سے قربت کر لیں تو ان پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم آئیں گے۔اگر خاوند زبردستی دخول کردے تو خاوند پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے اور بیوی پر صرف قضاء ہوگی۔ اسی طرح اگر بیوی قربت کے لیے مجبور کرے تو قضاء اور کفارہ بیوی پر ہوگا جبکہ خاوند پر صرف قضاء ہوگی۔

عباد بن عبداﷲ بن زُبَیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ وہ جل گیا۔

آپ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا: عرض کی کہ میں رمضان میں (دن کے وقت) اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا ہوں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس کو عرق کہا جاتا ہے۔ فرمایا کہ وہ جل جانے والا کہاں ہے؟ عرض گزار ہوا کہ میں ہوں۔ فرمایا کہ اسے خیرات کر دو۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.