کیا عورت شو ہر کی چپل پہن کر واشروم جا سکتی ہے؟

0





عورت کے لیے جا ئز نہیں ہے کہ وہ مرد کی مشا ہبت اختیار کر ے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیت الخلاء میں بھی لیڈیز کی چپل الگ ہوں مردوں کی الگ ہوں کل میں نے مو لا نا صاحب کی باتیں سنیں بیان کر رہے تھے کہ واش روم میں جو جوتے رکھے ہو تے ہیں وہ خواتین مردانہ چپل پہن کر واش روم چلی جا تی ہیں یہ گ ن ا ہ کی بات ہے ۔ کیونکہ نبی ﷺ نے عورتوں کو مردوں کی مشاہبت سے منع کیا ہے تو یہ کچھ زیادہ ہو گئی بھائی واش روم ہے اس میں مشاہبت کی کیا بات ہے چپل ہے کوئی بھی آ جا ؤ پہن جا ؤ اتنا ٹائم ہو تا ہے کہ مرد اپنی ہی پہن کر جا ئے چپل اور عورت اپنی چپل پہن کر جا ئے ایسا تھوڑی نہ ہو تا ہے تو یہ کوئی زیادہ ہو گئی ہے بھائی صاحب تو اس لیے اتنے تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔

عام نارمل حالات میں یہ غلط ہے کہ عورت مرد بننے کی کوشش کر ے اور مرد عورت بننے کی کوشش کر ے۔ عورت یا لڑکی، جب عورتوں کی محفل میں جائے گی تو گھر سے نکل کر ہی جائے گی اور راستہ میں یا گاڑی سے اترتے وقت آس پاس مرد بھی ہوسکتے ہیں، جن کی اس طرح کی ایڑیوں والے جوتیوں پر نظر پڑنا کچھ مشکل نہیں، نیز اونچی ایڑی والی جوتیاں محض فیشنی ہیں، اُن میں کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں ہے ؛ اس لیے بہر صورت اونچی ایڑیوں والی جوتیوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔بیٹھے ہوئے ہی سلام کرنا کافی ہے؛ کیوں کہ کسی کی آمد پر کھڑا ہونا عجمی طریقہ ہے؛ لہٰذا آپ کے یہاں کا جو رواج ہے، اُسے ختم کرنا چاہیے۔کسی عیسائی کو اسلامی سلام(یعنی: السلام علیکم) کرنا درست نہیں؛ کیوں کہ یہ سلام مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے، اس میں دنیا وآخرت دونوں جہاں کی سلامتی کی دعا ہے ۔

اور اگر مجبوری ہو تو یہ کہہ دے السلام علی من اتبع الھدی یا صرف السلام کہہ دے ردوں کی کیپ یا چپل و جوتا پہننے سے مقصود اگر مردوں کی مشابہت اختیار کرنا ہو تو شرعاً اس کی اجازت نہیں، احادیث میں ایسے مردو زن پر لعنت کی گئی ہے، جو خلافِ جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔اگر مشابہت مقصود نہ ہو، بلکہ بوجہ ضرورت پہن لے (مثلاً قریب میں زنانہ جوتی موجود نہ ہو، یا بالوں کو سمیٹنے کے لیے قریب میں کوئی اور چیز نہ ہو) اور گھر میں کوئی غیر محرم بھی نہ ہو تو گنجائش ہوگی۔ اور اگر کام کاج کے دوران بے خیالی میں پہن لی تو حرج نہیں۔ تو ہمیں اپنے دین اسلام کے تحت اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کر نی چاہیے کیونکہ ہم جا نتے ہیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہماری زندگیاں جو ہیں وہ اسلام پر عمل کر کے ہی ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ تو ہمیں ہمارے دین اسلام پر عمل کر نا چاہیے تا کہ ان چھوٹی چھوٹی پیچیدگیوں کو سمجھا جا سکے۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.