کیا آپ جانتے ہیں مکہ مکرمہ میں پہلا حج کس نے کیا؟ اسلامی تاریخ سے وہ معلومات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں –

0

جب حضرت ابراہیمؑ کو حکم الٰہی ہوا کہ مکہ کی طرف جاؤ تو آپ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیلؑ کو لے کر روانہ ہوگئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ یہاں نہ کوئی عمارت تھی اور نہ پانی تھا اور نہ یہاں کوئی رہتا تھا۔ درختوں کے نام پر صرف ببول وغیرہ کی جھاڑیاں تھیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے بیوی بچے دونوں کو یہاں بٹھا دیا۔

ایک مشکیزہ پانی کا اور کھجوریں پاس رکھ دیں اور پھر آپؑ شام کی طرف چلے گئے۔ حضرت ابراہیمؑ دوسری بار مکہ آئے تو قیام نہ کیا لیکن جب تیسری بار تشریف لائے تو حضرت اسماعیلؑ سے فرمایا کہ ’’بیٹا! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے‘‘۔ حضرت اسماعیلؑ نے کہا: ’’تو اطاعت کیجیے‘‘۔ پوچھا: ’’کیا تُو میری مدد کرے گا؟‘‘ کہا: ’’کیوں

نہیں‘‘۔حضرت ابراہیمؑ نے کہا: ’’اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں‘‘ ۔گھر کی تعمیر شروع ہوئی، حضرت اسماعیلؑ پتھر لاتے جاتے اور حضرت ابراہیمؑ بناتے جاتے تھے۔ جب تعمیر ذرا بلند ہوگئی تو حضرت اسماعیلؑ ایک پتھر اٹھاکر لائے تاکہ حضرت ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہوکر تعمیر کریں۔ (یہی مقام ابراہیمؑ ہے) دونوں باپ

بیٹے دیوار اٹھاتے جاتے تھے اور دعا کرتے جاتے تھے۔’’اے پروردگار! ہم سے قبول فرما، تُو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘انھوں نے اس گھر کی تعمیر نہ مٹی سے کی اور چونے سے، بس پتھر پر پتھر رکھتے چلے گئے، نہ اس کی چھت بنائی نہ دروازہ۔ بعد میں مختلف ایام میں پھر بیت اﷲ کی تعمیر ہوئی۔ قریش نے بھی تعمیر کی اور ان کے بعد بھی ہوئی۔

کہتے ہیں اس وقت حضرت اسماعیلؑ کی عمر بیس سال تھی، حضرت ابراہیمؑ نے بیت اﷲ کے پہلو میں حجر کو حضرت اسماعیلؑ کی بکریوں کا باڑہ بنایا تھا اور اس پر پیلو کی چھت ڈالی تھی۔ پہلے بیت اﷲ کی جگہ ایک سرخ ٹیلہ تھا۔ اکثر سیلاب ادھر ادھر سے اسے کاٹتا رہتا تھا۔ جب حضرت ابراہیمؑ تعمیر کعبہ سے فارغ ہوگئے تو حضرت

اسماعیلؑ سے ایک ایسا پتھر لانے کو کہا جو آغاز طواف کے لیے نشانی کے طور پر استعمال ہوسکے۔ یہ پتھر حضرت جبرئیل ابوقبیس کی پہاڑی سے لائے۔حضرت ابراہیمؑ نے اسے اس مقام پر رکھ دیا جہاں وہ اب قائم ہے۔روایت ہے یہ بہت روشن تھا۔حضرت جبرئیل نے انھیں تمام مقامات دکھائے اور پھر اﷲ نے حکم دیا کہ لوگوں کو حج کے لیے پکاریں۔

حضرت ابراہیمؑ نے کہا: ’’پروردگار! میری آواز لوگوں تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟‘‘ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ’’آپ پکاریے، ہم آپ کی پکار لوگوں تک پہنچادیں گے۔‘‘ تفسیر جلالین میں ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے ابو قبیس پہاڑی پر چڑھ کر پکارا: ’’لوگو! اﷲ تعالیٰ نے ایک گھر بنایا ہے اور تم پر حج فرض کیا ہے لہٰذا تم اپنے پروردگار کی آواز پر لبیک کہو۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ نے شمال جنوب، دائیں اور بائیں منہ کرکے آواز دی اور لوگوں نے لبیک کہا۔طاہر الکروی جن کی

اس کتاب کو عبدالصمد صارم نے اردو میں منتقل کیا ہے، لکھتے ہیں کہ حضرت عباس کی روایت کے مطابق رسول اﷲ ؐ نے فرمایا ہے:’’اﷲ کے اس گھر پر ہر دن رات میں اﷲ کی ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ ساٹھ طواف کرنے والوں کے لیے، چالیس نمازیوں کے لیے اور بیس اﷲ کے گھر کو دیکھنے والوں کے لیے۔ حضرت حسان بن عطیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ ؐ کے اس قول پر غور کیا، معلوم ہوا کہ یہ سب رحمتیں درحقیقت طواف کرنے والے

کے لیے ہیں کہ وہ طواف کرتا ہے،نماز بھی پڑھتا ہے اور کعبہ کی طرف دیکھتا بھی ہے۔کسی نے کیا ہی اچھا کہا ہے: ’’خانہ کعبہ میں طرح طرح کی فضیلتیں ہیں، گھر والا ہی انھیں جانتا ہے۔ جو کوئی یہاں اپنی خطاؤں سے ڈر کر آیا، اﷲ اس کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ طاہر الکروی لکھتے ہیں خانہ کعبہ گیارہ بار تعمیر ہوا ہے۔ فرشتوں نے بنایا، حضرت آدمؑ نے بنایا، حضرت شیثؑ نے تعمیر کیا، حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا، عمالقہ نے بنایا،جرہم نے تعمیر کیا، قصی

نے تعمیر کیا، قریش نے بنایا، عبداﷲ بن زبیرؓ نے تعمیر کیا، حجاج نے بنایا، پھر سلطان مراد رابع نے بنایا جو آل عثمان میں سے تھا۔قریش کی جانب سے تعمیر نو رسول اﷲ ؐ کے زمانے میں ہوئی تھی۔ قریش نے تعمیر کے لیے جو حلال مال جمع کیا تھا وہ کافی نہیں تھا اس لیے حجر کی طرف چھ ہاتھ ایک بالشت جگہ کم کردی گئی تھی۔ حجر کے پیچھے ایک چھوٹی سی گول دیوار بنادی تھی

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.