اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا آسان طریقہ آپ بھی یہ طریقہ خود آز ما ئیے۔

0





میں نے ان سے ایک سوال پو چھا۔ اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟؟؟ وہ مسکرائے قبلہ رخ ہوئے پاؤں لپیٹے اپنے جسم کا سارا بو جھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہیں اللہ سے کیا چاہیے ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے ہوئے ہوئے تھے سانس تک لینا مشکل تھا میں نے اوپر دیکھا اوپر درختوں کے پتے تھے اور درختوں سے پرے گرم پگھلتا ہوا سورج تھا۔ میں نے مسکرا کر عرض کیا اگر بادل آ جا ئیں ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو موسم اچھا ہو جا ئے گا وہ آہستہ سے بو لے وہ دیکھو ا س کے بعد بیٹھے بیٹھے رکو ع میں جھکے اور پنجابی میں دعا کر نے لگے، اللہ جی کاکے کی دعا قبول کر لیں۔

اللہ جی ہماری سن لیں وہ دعا کرتے جا تے تھے اور روتے جا تے تھے پہلے ا ن کی پلکیں گیلی ہوئیں پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آ ئیں پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں میں ان کی آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا وہ ایک خاص انداز میں رو رہے تھے منہ سے سسکیاں نکلتی تھیں پھر اللہ جی ہماری سن لے کا راگ الاپتے تھے میں پریشانی اور خوف کے میلے جلے تاثرات کے ساتھ انہیں دیکھ رہا تھا وہ دعا کر تے جا تے تھے روتے جا تے تھے۔

اور سسکیاں بھرتے جا تے تھے میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا مجھے ہوا ٹھنڈی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی آسمان پر اسی طرح گرم سورج تھا لیکن جنگل کی ہوا میں ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی میری پیشانی سر اور گردن کا پسینہ خشک ہو گیا میرے سینے اور کمر پر رینگتے ہوئے قطرے بھی غائب ہو گئے میں ٹھنڈی ہوا محسوس کر رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا یہ دیکھتے ہی دیکھتے پتے تالیاں بجا نا شروع ہو گئے ہوا کی موسیقی ہونے لگی اور پھر بادل کا ایک ٹکڑا کہیں سے آیا اور سورج اور ہمارے درمیان ٹھہر گیا وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے وہ بہت دیر تک اللہ جی آپ کا شکر ہے اللہ جی آپ کی بہت مہربانی ہے کہتے رہے۔

وہ دعا سے فارغ ہوئے ذرا سے اوپر اٹھے ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے ان کی داڑ ھی آنسوؤں سے تر تھی انہوں نے کندھے سے رومال اتارا داڑھی خشک کی اور پھر بو لے دیکھ لو اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور شو ما با با جی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمو لا کیا ہے اللہ کب کیسے اور کیا کیا ما نتا ہے؟؟؟ وہ مسکرائے شہادت کی دو نوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بو لے یہ دو آنکھیں فارمولا ہیں میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا۔ وہ بولے میں نے یہ فارمو لا اپنی ماں سے سیکھا۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.