دُکھ کیوں ملتاہے؟ دُنیا کا ہر شخص درد کا تجربہ رکھتا ہے لیکن ۔۔؟

0





عمر کا تعلق سالوں سے نہیں ہوتا ،بعض اوقات انسان عین جوانی میں صدیوں پرانا ہوجاتا ہے۔ زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی ، زندگی کو آسان بنایا جاتا ہے ، پیار سے خلوص سے ، اور برداشت سے ۔عمر کی اونچائیوں پہ چڑھتا ہوا انسان یہ بات بھول جاتا ہے ، کہ وہ در حقیقت زینہ زینہ دو گز زمین میں اُتر رہا ہے۔انسان بڑھتے جارہے ہیں اور انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے ۔صبر کرنے والا کامیابی سے محروم نہیں رہتا اُسے طویل زمانہ لگ جائے ۔ اگر تم عظمت کی بلندیوں کو چھانا چاہتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کے لئے نفرت کی بجائے محبت آباد کرو۔انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ قدرت کی عطا ہے ، لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ، ہمارا اپنا انتخاب ہے ۔صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو کیونکہ ہر کام آسان ہونے سے پہلے مشکل تھا۔ لوگ توکل انسانوں پر کرتے ہیں اور ناامید ہونے پر شکوہ اللہ سے ۔ دنیا کا ہر شخص درد کا تجربہ رکھتا ہے لیکن انسان پھر بھی دوسروں کے درد کو نہیں سمجھتا۔ صبر ایک سواری ہے ،

جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی ، نا کسی کے قدموں میں نہ کسی کی نظروں میں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری اُمت کے ستر ہزار افراد کا گروہ (بغیر حساب کے) جنت میں داخل ہو گا جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عکاشہ بن محصن نے اپنی اُون کی چادر کو بلند کرتے ہوئے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اِس کو اُن میں شامل فرما لے، پھر ایک انصاری شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی اُن میں شامل کر لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ اُمتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ کثیر تعداد تھی، کسی نبی کے ساتھ گروہ تھا، کسی نبی کے ساتھ دس افراد تھے، اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد تھے، اور کوئی نبی اکیلا ہی تھا، اُسی دوران میں نے ایک جمِ غفیر دیکھا تو پوچھا: جبرئیل! یہ میری اُمت ہے؟ اُس نے کہا: نہیں! بلکہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے عظیم جمِ غفیر دیکھا۔ اس نے کہا: یہ آپ کی اُمت ہے؟ ان میں سے پہلے ستر ہزار افراد بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے تھے، نہ بد شگونی لیتے تھے اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے تھے۔ پس عکاشہ بن محصنص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اِسے اُن میں شامل فرما لے، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ اس پر تجھ سے پہل لے گیا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.