میری شادی رمضان سے پہلے ہوئی ہم میاں بیوی روزانہ سحری کھا کر قربت کر لیتے تھے اور پھر غسل کرکے نماز پڑھ لیتے کیا ہمارے وہ روزے قبول ہونگے ؟

0

ایک سوا ل ہے کہ ان کی شادی کو کافی سال ہوگئے تھے۔ جب شادی ہوئی تو سردیوں کا موسم تھا۔ شعبان کے آخری دن تھے۔ اور کچھ دنوں بعد رمضان شروع ہونے لگا۔ وہ کہنے لگی کہ جب سحری ہوتی تو میرے میاں کہتے کہ تھوڑی دیر کھیل لیتے ہیں۔ تھوڑی دیر قربت کر لیتے ہیں۔ تو کہنے لگی میری نئی نئی شادی تھی مز ہ بھی تھا سرور بھی تھا شہوت بھی تھی۔ اور روزے سے پہلے فارغ ہوجاتے اور پانی پی کر روزے کی نیت کرلیتے۔ اور صبح اٹھ کر غسل کر لیتے۔ اورفجر کی نماز بھی اس معاملے میں قضاء ہوجاتی۔ اب شوہر کی بھی مرضی تھی اور کچھ اپنی مرضی بھی تھی اس لیے ایسا کرنا پڑا۔ تو وہ عورت پریشان ہوگئی ۔ ک

یا ہمارا روزہ ہوگیا؟ یا کوئی کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟ مجھ سے غلطی تو نہیں ہوگئی میں نے خدا کو ناراض تو نہیں کردیا۔ تواس کا جواب کچھ یوں ہے۔ کہ ایسا مسئلہ بہت ساری عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو کہ وہ شرم وحیاء کے باعث نہیں پوچھ پارہی ہوتیں۔

کہ حلال کام میں کیا ح رام کا م کردیا۔ کیا فدیہ بنتا ہے۔ کیا کفارہ بنتا ہے۔ اور کچھ عورتیں تو پوری زندگی پوچھ نہیں پاتیں او ر قب ر میں چلی جاتی ہیں۔ تو یہاں تک بھی معاملات ہیں۔ آپ کی فجر کی نماز جو قضاء ہوئی اس کا کفارہ ہے۔ اگر آپ کی فجر کی نماز ادا نہیں ہوئی تو قضاء نمازوں کو ادا کر ے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ سحری سے پہلے قربت کرلی اور فارغ بھی ہوجاتے ہیں۔ تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا آپ کا روزہ ہوجاتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اسی وقت غسل کرلیا جاتااور اسی وقت فجر کی ادائیگی کرلی جاتی ۔

چونکہ آپ نے صورتحال یوں بتائی کہ پہلے سردی کا موسم تھا۔ تو اس وقت فوراً فوراً غسل نہیں ہوپاتا۔ اور اسی وقت سو جاتے تھے۔ اور روزہ رکھ کر نیت کرلیتے تھے اور پھرصبح اٹھ کر غسل کر کے باقی دن کی نماز کی ادائیگی کرلیتے تھے۔ تو روزہ بھی لگارہتا ۔

تو آپ سے کوئی گن اہ نہیں ہوا ہے۔بس آپ سے ایک گن اہ ہو ا ہے کہ آپ نے فجر کی نماز چھوڑدی ہے۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا معاملہ ہوجائے ۔ سحری کرنے کے بعد آپ نے قربت کر لی ۔ اور فارغ ہوگئے ۔ تو آپ کو چاہیے کہ اسی وقت غسل کرلیں۔ اور نیت کرکے آپ اسی وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔

لیکن ایسا نہیں ہوا ہے اور دل میں ڈر ہے ۔ تو قضاء نما ز پڑ ھ لیں۔ اور آپ نماز پوری پڑھ لیں ۔ اور آپ کے روزے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس کی سز ا وجزا تو اللہ تعالیٰ ہی دیں گے۔ لیکن آپ نے ایسی غلطی کو ختم کردینا ہے۔

آپ نے ح رام کام نہیں کیا ہےبلکہ بہتر صورتحال یہ ہوتی کہ اسی وقت غسل جنابت کر لیا جائے۔ لیکن نہیں ہوا اور صبح کرلیا۔ اور فجر کی نماز قضا ء ہوگئی۔ تو فجر کی نماز پوری رکعت ادا کرلیں۔ اور مزید آپ کو کوئی کفارہ یا فدیہ نہیں دینا ہے

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.