بیوی سے ناراض ہونے میں جلدی نہ کرو

0

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیوی سے ناراض ہونے میں جلدی نہ کر اگر ایک عادت پسند نہ آئے گی تو دوسری عادت پسند آجائے گی۔مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت ہر اعتبار سے بری نہیں ہوتی ، کوئی نہ کوئی تو اچھی بات پو گی ایسا نہ کرے کہ ذرا سی بات میں خفا ہو کر طالق دے دے یا عورت سے ناراض ہو جائے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کے آ ت ش کس پر حرام ہے وہ حرام ہے ہر اس شخص پر جو اللہ اور اس کے بندوں سے قریب ہے ان سے نرم سلوک کرتا ہے ، ملائمت رکھتا ہے اور ان کے لئے سہولت مہیا کرتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات کے تہائی حصے میں پہلے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے ،

پھر کہتا ہے کہ کون ہے مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں۔ جب کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے

تو اس کے گ ن ا ہ اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیئے جاتے ہیں، جب جب وہ رکوع اور سجدہ میں جاتا ہے تو وہ گ ن ا ہ گرتے رہتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو،

میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو،

میں تمہیں بخش دوں گا، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔

اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے،

اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.