”روزے کی حالت میں میاں بیوی سے بوس و کنار کرنا

0

روزے کی حالت میں میاں بیوی کا ایک بستر میں لیٹنا جائز ہے، تاہم ب لباس لیٹنا یا بغیر حائل کے جسم م ل ن ا، یا اپنے اوپر اعتماد نہ ہونے کے باوجود بوس و کنار کرنا، یا ہونٹوں پر بوسہ لینا یا ایک دوسرے کے اعضاءِ مستورہ کو چھونا مکروہ ہے۔

نیز روزے کی حالت میں بوس و کنار کی وجہ سے اگر منی خارج ہوجائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم آئے گی۔ تاہم اگر اس دوران جماع (ہم بستری) کرلی تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم آئے گا۔

پس اگر منی (سفید گاڑھا مادہ) خارج ہوئی تھی تو روزہ فاسد ہوگیا ہے، قضا کرنا لازم ہے، البتہ اگر منی خارج نہیں ہوئی تھی صرف مذی (پانی کی طرح لیس دار مادہ) نکلی تھی تو روزہ فاسد نہیں ہوا، تاہم مکروہ ہوگیا ہے۔

بہرحال خود پر اعتماد نہ ہو یا آپ جوان ہوں تو روزے کے دوران بوس وکنار سے اجتناب کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“وَلَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ إذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ الْجِمَاعِ وَالْإِنْزَالِ، وَيُكْرَهُ إنْ لَمْ يَأْمَنْ، وَالْمَسُّ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ كَالْقُبْلَةِ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ. وَأَمَّا الْقُبْلَةُ الْفَاحِشَةُ، وَهِيَ أَنْ يَمُصَّ شَفَتَيْهَا فَتُكْرَهُ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَالْجِمَاعُ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ وَالْمُبَاشَرَةُ كَالْقُبْلَةِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ. قِيلَ: إنَّ الْمُبَاشَرَةَ الْفَاحِشَةَ تُكْرَهُ وَإِنْ أَمِنَ، هُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ. وَالْمُبَاشَرَةُ

الْفَاحِشَةُ أَنْ يَتَعَانَقَا، وَهُمَا مُتَجَرِّدَانِ وَيَمَسَّ فَرْجُهُ فَرْجَهَا، وَهُوَ مَكْرُوهٌ بِلَا خِلَافٍ، هَكَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَلَا بَأْسَ بِالْمُعَانَقَةِ إذَا لَمْ يَأْمَنْ عَلَى نَفْسِهِ أَوْ كَانَ شَيْخًا كَبِيرًا، هَكَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ”. (كتاب الصوم، الْبَابُ الثَّالِثُ فِيمَا يُكْرَهُ لِلصَّائِمِ، وَمَا لَا يُكْرَهُ، ١/ ٢٠٠) فقط واللہ اعلم

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.