کیا 3 ماہ کا ح مل ضائع کرنے کی اسلام میں اجازت ہے

0

ماں بننا ہر شادی شدہ عورت کی اولین ترجیع ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہیں جس کے باعث ایک عورت کو ح مل ضائع کرنے کے بارے میں یا حاملہ نہ ہونے کے بارے میں سوچنا پڑ جاتا ہے ۔

مذہب اسلام میں ایک عورت شادی کے بعد صرف اس ہی صورت میں ح مل ضائع کر سکتی ہے جب اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو ۔ وگرنہ غیر ضروری باتوں کو بنیاد بنا کر ح مل ضائع کرنے کی اجازت ہمارے مذہب میں نہیں ہے۔چارماہ سے پہلے ح مل کو کسی عذر کے تحت ضائع کروانا جائز ہے

اگر کوئی ماہر ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ اس پریگننسی کے دوران یا اس ڈیلوری میں بچہ پیدا ہوگا تو اس عورت کی ماں کی جان کے جانے کا خطرہ ہے ۔یا اگر یہ عورت حاملہ رہی تو عورت اس عمل کو برداشت نہیں کرسکتی جان جانے کا خطرہ ہے ۔ پہلے والا بچہ وہ بہت چھوٹا ہے اگر اور بچہ لے لیتے ہیں اس بچہ کی پیدائش

میں اور اس کی دیکھ بھال میں فرق آئیگا تو شریعت کہتی ہے کہ آپ کو اجازت ہے آپ ح مل ضائع کروا لیں۔شدید مجبوری کے تحت اور کوئی دینی ڈاکٹر کہے تو آپ ضائع کروا سکتے ہیں ویسے نہیں کرواسکتے ۔ اگر کوئی اس لیے کرے کہ پہلے سے چار بچے موجود ہیں تو پانچواں آئیگا تو کیسے کھلائیں گے

ان کی بھاری سکول کی فیس جارہی ہے پانچویں بچے کی سکول کی فیس کیسے بھر سکیں گے اگر ایسی صورتحال ہے تو رازق اور خالق اللہ تعالیٰ ہے اس نیت سے ح مل ختم کروائیں تو بلکل جائز نہیں اور شریعت اجازت نہیں دیتی ہے ۔

اگر مجبوری میں ڈاکٹر نے کہہ دیا تو اس صورت میں کروا سکتے ہیں کہ جان جانے کا خطرہ ہے ۔ اگر کھلائیں گے کہاں سے دوائی کہاں سے آئیگی مہنگی پڑھائی کہاں سے آئیگی تو رازق اللہ تعالیٰ ہے اگر مقصد باطل تو شریعت بلکل اجازت نہیں

دیتی ہے ۔کروانے میں آپ گ ن ا ہ کے مستحق ہونگے بلکہ گ ن ا ہ کبیرہ ہوگا ۔ اگر چار ماہ سے قبل ایسا عذر ہے عورت کی جان جانے کا خطرہ ح مل برداشت نہیں کرپائے گی تو ا س صورت میں ح مل ضائع کروا سکتے ہیں اس میں بھی کسی دینی علماء اجازت دے ۔

اللہ تعالیٰ کی ذات اگر ایک چیونٹی کو رزق دے سکتا ہے تو وہ آنے والے بچے کو بھی رزق عطاء کرسکتا ہے ۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.