مدینہ منورہ میں ایک لڑکے کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے

0

مدینہ منورہ میں ایک لڑکے کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے اس لڑکے نے حضرت علی ؓ کو دور سے دیکھ کر پکارا اور کہا کہ اے علی ابن ابی طالب مجھے بچاؤ حضرت علی ؓ نے پوچھا کیا ہوا؟ تو وہ لڑ کا کہنے لگا کہ اے علی ؓ میں بے گناہ ہوں مجھے بے گنا ہی کے باوجود ق ت ل کی س ز ا د ی گئی مجھے بچاؤ میں بے گناہ ہوں

حضرت علی ؓ نے پولیس کے آدمی سے پو چھا کہ کیا بات ہے تو اس پولیس کے آدمی نے کہا کہ اے علی ؓ آپ کو معلوم نہیں کہ اس لڑکے نے اپنے مالک کو ق ت ل کے بدلے میں اس کو ق ت ل کیا جا رہا ہے حضرت علی ؓ نے اس لڑکے سے پو چھا کہ بھائی تو نے مال کو ق ت ل کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ ہاں میں نے مالک کو ق ت ل کیا ہے

تو حضرت علی ؓ نے فر ما یا کہ پھر تو تیرا ق ت ل اس ق ت ل کے بد لے میں جائز ہے تو اس لڑکے نے کہا کہ جائز نہیں ہے

کیونکہ میرا مالک میرے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا تھا۔ میری عزت پر وہ ح م ل ہ کر نا چاہتا تھا تو میں نے اپنی عزت کو بچانے کے لیے اس کو ق ت ل کیا ہے اور حضور ﷺ کا حکم ہے کہ جو آدمی عزت کو بچانے کے لیے کسی کو ق ت ل کر دے تو اس کے بدلہ میں اس کو ق ت ل نہیں کیا جا تا۔ سپاہی سے پو چھا واقعی اس نے یہ کہا سپاہی نے کہا کہ بات تو ٹھیک ہے

لیکن اس کے پاس اس واقعہ کا کوئی گواہ نہیں ہے کہ وہ میرے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا تھا اس لیے خلیفہ وقت اور قاجی وقت نے یہ دیکھا کہ مالک ق ت ل ہو گیا اب مالک تو چلا گیا اب کون بتا ئے کہ مالک نے اس کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا اس کا کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے ہم نے اسے ق ت ل کی سزادی ہے وہ لڑ کا رونے لگا اور کہنے لگا۔

واقعتاً میرے مالک نے میرے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا حضرت علی ؓ حضرت عمر ؓ کے پاس آ ئے اور آکر فر ما یا کہ اے امیرالمو منین آپ اس ق ت ل کی تفتیش میرے سپر د کر دیں۔ حضرت علی ؓ اقضھم علی تھے حضرت علی کے فیصلے بڑے گہرے ہوا کرتے تھے حضر ت عمر ؓ نے فر ما یا ٹھیک ہے اس قتل کی تفتیش آپ کر یں اب حضرت علی ؓ تفتیش کرنے کے لیے آ ئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟

تو حضرت علی ؓ نے فر ما یا کہ میں نے حضور ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے کہ جو آدمی لڑکوں سے برائی کا ارادہ کرتا ہے جب اس کا انتقال ہو جاتا ہے۔ اور اس کو ق ب ر میں ڈالا جا تا ہے تو اس کی ل ا ش کو اٹھا کر قوم لوط کے ق ب ر س ت ا ن میں بھیج دیا جاتا ہے تو اس لیے جب ہم نے اس کی ق ب ر کریدا تو اس ق ب ر کے اندر اس کا مالک نہیں تھا جب کہ ابھی چند دن پہلے اس کو د ف ن کیا گیا تھا۔

اے امیر المو منین اس حد کی تفتیش میرے سپر کر دی جا ئے حضرت عمر ؓ نے فر ما یا ٹھیک ہے حضرت علی ؓ اس کی تفتیش کرنے لگے مسجد کے با ہر لوگ بیٹھ گئے وہ عورت بھی بیٹھ گئی اور وہ لڑکا بھی بیٹھ گیا حضرت علی ؓ نے اس لڑکے سے کہا کہ جو فیصلہ میں کروں گا تجھے منظور ہے اس نے کہا بالکل منظور ہے

تو پھر حضرت علی ؓ نے فر ما یا لکھ دے اس نے لکھ دیا اب حضرت علی ؓ نے اس عورت سے کہا کہ جو فیصلہ میں کروں وہ تجھے بھی منظور ہے۔ اس نے کہا منظور ہے۔ اس لڑکے کا بازو پکڑ کر کہا میں نے اس عورت کا نکاح پانچ سو درہم کے بدلے میں تیرے ساتھ کر دیا اور کہا کہ جاؤ اس عورت کو لے جاؤ اور دونوں میاں بیوی آپس میں تعلقات قائم کرو۔ جس وقت اس لڑکے نے کہا میرا بیٹا ہے تو نے جھوٹ کیوں بو لا؟

میرے بھائی میری شادی کسی اور جگہ کر نا چاہتے تھے اور ساری جائیداد کو ہڑپ کر نا چاہتے تھے ۔ اگر یہ لڑکا میرا ثابت ہو تا تو جائیداد ساری اس کے پاس چلی جاتی جائیداد کو ہڑپ کرنے کے لیے ہم نے یہ ڈرامہ رچا یا ہے اس عورت کا قصور ثابت ہو گیا اور لڑکا بر ی ہو گیا۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.