”مرد جسم کے جنگل میں ایک بھوکا درن دہ ہے

0

وہ ہولے ہولے سے مفلوج ہورہی ہے۔ تمہاری یادوں کا سایہ پہرا ڈال رہا ہے میرے گمان کے ہرالہام پر ،اور وہ رستی ہوئی نمی ان یادوں کو اور گہر ا کرکے میرے ضبط کا حصہ بنتی جارہی ہے۔

جیو سپر پرعورت کے کردار کو اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ چا ر ڈیزائنز جوڑوں کے نام پر کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو دیکھ کر اسے حاصل کیا جائے۔

جیو سپر پر بلکہ اس کے کردار کو اتنا مضبوط ہوناچاہیے کہ مرد کو اسے تسخیر کرنے کے لیے ناصرف اللہ سے رابطہ کرنا پڑے بلکہ اس عورت کو حاصل کرنے کےبعد مرد کی ساری عمر شکر کرتے ہوئے گذرے۔ زندگی۔جیو سپر پرم کا ایک مختصر سا قصہ ہے۔

ملاقات، محبت، ملال اور پھر موت۔ لرزتی بھیگتی آواز میں کہا کسی نے ،۔جیو سپر پرجاؤ تیار ہوجاؤ نکاح مبارک ہو تمہیں ۔ کسی کی خدمت میں پیش کیے جانے والے تحفوں میں سب سے بہترین تحفہ احترام ہے۔

جیو سپر پرآنسو نکل پڑے تجھے خوا ب میں بھی دور جاتا دیکھ کر ، آنکھ کھلی تو احساس ہوا محبت سوتے ہوئے بھی رلا دیتی ہے۔میرے نزدیک اعتبار ایک روح کی طرح ہے ، جو ایک دفعہ چلاجائے تو پھر کبھی دوبارہ نہیں آتا۔جیو سپر پرانسان جس شخص پر تنقید کرتا ہے

اور جس میں کیڑے نکالتا ہے اورجس کو برا سمجھنے لگتا ہے۔جیو سپر پر بالآخر ویسا ہی ہوجاتا ہے۔ بے جا تنقید کرنے والوں کی پرواہ مت کیجیے۔ یہ اگر آپ کو پانی پر بھی چلتا دیکھیں گے تو کہیں گے.

کہ دیکھو اسے تیرنا نہیں آتا۔جیو سپر پر)باباجی کہتے ہیں پتر اپنے موجود لوگوں کی گنتی کرتے رہنا چاہیے ، اگر تعداد زیادہ ہے تو تمہارا اچھا وقت چل رہا ہے اور اگر تعداد کم ہے تو تم برے وقت سے گزررہے ہیں۔جیو سپر پر)۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.