جس لڑکی کا منگیتر مرجائے کیا اسکی دوبارہ شادی نہیں ہوسکتی

0





آج کا ہمارا موضوع ہے بن بیاہی بیوہ سندھ کی ایک مقروح رسم جس میں لڑکی کا منگیتر مر جائے تو دوبارہ کسی سے شادی نہیں کرسکتی ہے ۔ ہندوؤانہ ذہنیت کی پیداوار ہے ۔قرآن میں ہے تم میں سے جو بے نکاح کے ہو ان کے نکاح کردو اور اپنے سالے غلام اور لونڈیوں کا بھی بعض ہلکوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ منگنی نکاح کے مانند ہے ایک دوسرے کے مترادف ہے ان لوگوں کے خیال کے مطابق اگر منگنی ٹوٹتی ہے تو اس صورت میں لڑکے کو باقاعدہ ط لا ق دینا ہوگی ۔

عورت کو مدخولہ متعلقہ کا مہر ادا کرنا ہوگا۔ یہ نقطہ نگاہ درست نہیں نکاح اور منگنی میں واضح فرق ہے ۔ نکاح اور منگنی دونوں ایک دوسرے سے الگ چیزیں ہیں ۔ نکاح کے موقع پر باقاعدہ مہر کا تعین ہوتا ہے ۔مہر معجل کی صورت میں اس مہر کی ادائیگی بھی ہوجاتی ہے ۔ جبکہ منگنی میں ایسا نہیں ہوتا ۔ اس موقع پر تو مہر کا ذکر بھی نہیں ہوتا ۔ منگنی میں عجاب قبول بھی نہیں ہوتا ۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے ۔ لڑکی اور لڑکے سے پوچھے بغیر منگنی کردی جاتی ہے ان میں سے ایک یا دونوں اس پر رضا مند نہیں ہوتے ۔ وہ جھجھک اور شرم وحیاء کیوجہ سے خاموش رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود منگنی طے ہوجاتی ہے ۔ جبکہ نکاح میں باقاعدہ لڑکی اور لڑکے سے اجازت لیکر نکاح کیا جاتا ہے ۔ لڑکا بھی ماضی کے سیغے کے ساتھ مشترکہ مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں قبول کرتا ہے ۔

منگنی میں ایسا نہیں ہوتا ۔ منگنی نکاح کا عہد ہوتا ہے اور نکاح اس عہد کی تکمیل ہے ۔ یہ قانون اور شریعت کا اصول ہے کسی کام کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب تک وہ وقوع پذیر نہ ہوجائے اس کا مہز ارادہ اس کےوقوع پذیر ہونے کے قائم مقام نہیں ہوتا ۔ فعل نکاح کا انعقاد اسی وقت ہوگا جب مشترکہ مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں عجاب قبول ہوگا ۔

ورنہ یہ ارادہ عہد ہی ہوگا۔ فقہاء کرام نے نکاح کی تعریف میں جن لوازمات کو شامل کیا منگنی میں وہ لوازمات شامل نہیں ہوتے ان لوازمات کے اعتبار سے منگنی اور نکاح میں کوئی مماثلت نہیں۔رسول اللہﷺ کی حضرت عائشہ ؓ سے نسبت مکہ میں طے ہوگئی ۔ لیکن جب حضرت عائشہ ؓ کی رخصتی ہوئی تو اس وقت نکاح پڑھایا گیا ۔

رسول اللہﷺ نے نسبت طے ہونے سے پہلے حضرت عائشہ ؓ کی نسبت غتم بن اطیع کے بیٹے سے طے ہوئی تھی ۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اسی دوران حضورپاکﷺ سے حضرت عائشہ ؓ کی نسبت بات ہوئی اگر صرف نسبت نکاح کے قائم مقام ہوتی تو پھر حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں حضور پاک ﷺ کا بات کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

متم بن عطیع کے بیٹے سے ط لا ق کےبعد ہی حضورپاکﷺ نے ان سے نکاح کرایا ہوگا۔ جبکہ صرف متم بن عطیع کے زبانی کہہ دینے سے کہ اگر تمہاری بیٹی سے اپنے بیٹے کی شادی کردیں گے توتم اسے بھی بے دین بنادوگے اسی وجوہات کی بناء پر تعلق ختم ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سمجھ عطاء فرمائے۔










شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.