مرد کو ہر وہ عورت ب د کردار لگتی ہے جو““

0

کہتے ہیں عورت راز نہیں رکھ سکتی ۔ میں کہتا ہوں اگر عورت راز رکھنا چھوڑ دے تو معاشرے میں کچھ مرد منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں ۔

با نوقدسیہ کہتی تھیں اگر مرد آپ سے باربار معافی مانگ کر آپ کو منارہا ہے آپ کے غصے کا برا نہیں منا رہا ہے آپ غصے کا برانہیں منارہا یقین مانیں آپ بہت خوش نصیب ہے ۔

عورت اپنی زندگی میں دو مردوں کو کبھی نہیں بھولتی ایک وہ جو اس سے محبت کرتا ہواور دوسرا وہ جو عزت کرتا ہے

لیکن ہمیشہ محبت سے زیادہ عزت کا پلڑا بھاری رہتاہے پھر چاہے عزت کرنے والا کوئی غیر ہی کیوں نہ ہو۔ عورت کے سب رنگ مرد سے ہی ہوتے ہیں

چاہے وہ خوشی سے ہو یا پھر غم کے ۔ مرد کو ہروہ عورت بد کردار لگتی ہے جواس کے علاوہ کسی اور کے لیے میسر ہوں۔

بانو کہتی تھیں کہ شادی ہونا اور شادی کرنا میں بہت بڑا فرق ہے شادی ہونا میں مجبوری نام کا دھبہ عورت کی زندگی برباد کر دیتا ہے

جب کہ شادی کرنا میں خوشی کا معیار جنت جیسا ہوتا ہے۔ عورت کبھی بھی مرد شنا س نہیں رہی ہمیشہ منافق مکار ار جھوٹے مرد سے دھو کہ کھا کر مخلص مرد کو دھوکہ دے کر اپنا انتقام لیا۔

قصہ بہت مختصر ہے میرے عشق کا جو ملا ہی نہیں تھا وہ بچھڑ گیا۔ اگر کسی سے محبت ہوجائے تو اظہار میں دیر مت کرو ۔

باربار اظہار کرو اور فوری نکاح کرلو کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ جذبات اظہار کے محتاج ہوتے ہیں اظہار کے بنا جذبات،

جذبات نہیں اور محبت کا مزہ نہیں۔ عورت یا مرد کا بھروسہ جیت کر اس کا دل توڑنے والاانسان انتہائی بے غیر ت ہوتا ہے۔

میاں بیوی کا اکٹھے بیٹھنا ایک برتن میں ہی کھانا اور پینا کوئی بے شرمی نہیں ہے۔

بلکہ میرے پیارے نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ اگر کوئی لڑکی کسی سے محبت کرے تو ضروری نہیں ہوتا کہ وہ لڑکی بدکردار ہو۔

پتا ہے کہ مرد کے دکھ بے زبان ہوتے ہیں وہ چار لوگوں میں بیٹھ کر رو نہیں سکتا اور اپنے در د کا بھی سب سے پردہ رکھتاہ۔

بانو کہتی تھیں عورت کو بھروسہ صرف اپنے محرم مردوں پر کرنا چاہیے نامحرم مرد پر بھروسہ کرکے عورت رسوا ہوتی ہے۔

اگر میرا علم مجھے انسان سے محبت کرنا نہیں سکھاتا تو ایک جاہل مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں کہ جب انسان ضرورت سے زیادہ اچھا بن جاتا ہے تو وہ انسان ضرورت سے زیادہ استعمال ہوجاتاہے۔

جس نے نبھانا ہوتا ہے وہ ہزار غلطیوں پر بھی معاف کردیتا یا کردیتی ہے۔ اور جس شخص نے نہیں نبھانا ہوتا یا ہوتی وہ ایک غلطی پر بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

با نو آپا کہا کرتی تھیں کہ کبھی کبھی ہم لوگوں کا برا سلوک اس لیے برداشت کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم کو ان سے پیار ہوتاہے۔

جب کوئی مرد کسی عورت کے عشق میں مبتلا ہوتاہے تو اسے اس عورت کی بھوک مٹانے کا چسکا پڑجاتا ہے۔

جو مرد آپ کے لیے رو پڑے بس وہ محبت کی انتہاء ہے اس سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں چا ہ سکتا۔ ایسے انسان کی قدر کرنی چاہیے۔

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.