سورج کی پہلی روشنی زمین پر آتے ہی چار رکعت نماز اس طرح پڑھ لو

0

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حدیث قدسی ہے اللہ ذوالجلال فرماتے ہیں میرے بندے جب سورج کی روشنی دنیا کے اندر پھیل جائے دن کے شروع میں چار رکعتیں تم پڑھ لو سارا دن میں تمہیں کافی ہوجاؤ گا نماز ضحیٰ چاشت ،کام کیجئے تھوڑا سا وقفہ لیجئے گنتی کے آٹھ سے دس منٹ رب کی ضمانت میں جانے کے لئے

بلکہ تین سو ساٹھ جوڑ انسان کے جسم میں ہیں فرمایا ہر جوڑ پر صدقہ ہے دنیاکا کوئی امیر انسان ہر روز اپنے تین سے ساٹھ جوڑوں کا صدقہ نہیں دیتا آپ نے فرمایا جو دو رکعتیں پڑھ لے اس کے پورے جسم کے اعضاء کا صدقہ ادا ہوجاتا ہے جو چار پڑھ لے اگلے چوبیس گھنٹے رب کی ضمانت میں آجاتا ہے آپ چھ بھی پڑھ سکتے ہیں آپ آٹھ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔

سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمن کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے، کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ روزے کسی مہینے میں نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند دن چھوڑ کر شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم یہ کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افطار نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افطار شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے

اور میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہ رمضان کے سوا کسی ماہ مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ کسی ماہ میں آپ کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں

کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں روزے رکھتے ہیں اس قدر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو رجب اوررمضان کے درمیان میں (آتا) ہے اور لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں (پورے سال کے) عمل اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں

لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل روزہ دار ہونے کی حالت میں اُٹھائے جائیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رمضان المبارک کے بعد کس مہینے میں روزے افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تعظیم رمضان کے لیے شعبان کے روزے رکھنا (افضل ہیں)۔

پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک میں صدقہ دینا (افضل ہے)۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

شیئر کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.